اصحابِ بدرؓ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 151 of 594

اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 151

اصحاب بدر جلد 3 151 حضرت عمر بن خطاب علاقے میں مرکزی حیثیت حاصل ہے۔جنگ رے 279 حضرت عمر کے زمانے میں ایک جنگ ہوئی جسے جنگ رے کہتے ہیں۔رے ایک مشہور شہر ہے جو پہاڑوں کی سر زمین ہے۔یہ نیشا پور سے 480 میل کے فاصلے پر اور قزوین سے 51 میل کے فاصلے پر ہے۔رے کے رہنے والے کو رازی کہتے ہیں۔مشہور مفسر قرآن حضرت امام فخر الدین رازی رے کے رہنے والے تھے۔رے کا حاکم سِيَاوَخُش بن مِهْرَان بن بهرام شُوْبِيْن تھا۔اس نے دُنْبَاوَند طبَرِستان، قومِس اور جُرْجَانُ والوں کو اپنی امداد کے لیے بلایا اور ان کو کہا کہ مسلمان رے پر حملہ آور ہیں۔تم ان کے مقابلے کے لیے جمع ہو جاؤ ورنہ پھر الگ الگ تم ان کے سامنے کبھی نہ ٹھہر سکوگے۔چنانچہ ان علاقوں کی امدادی افواج بھی رے میں جمع ہو گئیں۔ابھی یہ مسلمان جو تھے رے کے راستے میں ہی تھے کہ ایک ایرانی سردار ابو الْفَرِخان زَيْنَبِی مصالحانہ طور پر مسلمانوں سے آملا جس کی وجہ غالباً یہ تھی کہ اس کی رے کے حاکم سے لگتی تھی۔حاکم ہے لشکر جب رے پہنچا تو دشمن کی تعداد اور اسلامی لشکر کی تعداد میں کوئی مناسبت نہیں تھی۔یہ صورت دیکھ کر زینبی نے نعیم کو کہا کہ آپ میرے ساتھ کچھ شہسوار بھیجے میں خفیہ راستے سے شہر کے اندر جاتا ہوں، آپ باہر سے حملہ آور ہوں اور شہر فتح ہو جائے گا۔چنانچہ رات کے وقت نعیم بن مقرن نے اپنے بھتیجے مُنذر بن عمرو کی سرکردگی میں رسالے کا کچھ حصہ زینی کے ہمراہ بھیج دیا اور ادھر باہر سے لشکر لے کر خود شہر پر حملہ آور ہوئے۔جنگ شروع ہو گئی۔دشمن نے بڑی ثابت قدمی سے حملہ کا جواب دیا مگر جب اپنی پشت سے ان مسلمانوں کے نعروں کی آواز سنی جو زینبی کے ہمراہ شہر کے اندر داخل ہو گئے تھے تو ہمت ہار دی اور شہر پر مسلمانوں کا قبضہ ہو گیا۔شہر والوں کو تحریر امان دے دی گئی اور جو امان دی اس کے الفاظ اس طرح ہیں۔بسم اللہ الرحمن الرحیم۔یہ وہ تحریر ہے جو نعیم بن مقرن، زینبی کو دیتے ہیں۔وہ باشند گان رے اور باہر کے باشندوں کو جو ان کے ساتھ ہیں امان دیتے ہیں اس شرط پر کہ ہر بالغ سالانہ حسب طاقت جزیہ دے اور یہ کہ وہ خیر خواہی کرے۔راستہ بتائیں اور خیانت اور دھوکا بازی نہ کریں اور ایک دن رات مسلمانوں کی میزبانی کریں اور ان کی تعظیم کریں۔جو مسلمانوں کو گالی دے گا سزا پائے گا اور جو اس پر حملہ کرے گا مستوجب ہو گا۔بہر حال یہ تحریر ہو کر گواہی ڈالی گئی۔280 پھر فتح قومیس اور جُز جان ہے۔یہ بائیس ہجری کی ہیں۔رے کی فتح کی خوشخبری حضرت عمرؓ کے پاس قاصد لے کر پہنچا تو آپ نے نعیم بن مقرن کو لکھا کہ اپنے بھائی سُوَيْد بن مُقَرِن کو قُومِیس کی فتح کے لیے بھیج دو۔یہ شہر رے اور نیشا پور کے درمیان طبرستان کے پہاڑی سلسلہ کے آخری حصہ پر واقع