اصحابِ بدرؓ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 150 of 594

اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 150

اصحاب بدر جلد 3 150 حضرت عمر بن خطاب بن ورقاء ریاحی کو بنائیں۔بازوؤں کی کمان عبد اللہ بن ورقاء آسدی کو اور عضمہ بن عبد اللہ کے سپرد کریں۔عبد اللہ روانہ ہوئے۔شہر کے مضافات میں اصفہان والوں کے ایک لشکر سے مقابلہ ہوا جو ایرانی سپہ سالار استندار کی سر کر دگی میں تھا۔دشمن کے ہر اول کا افسر یعنی جو پہلا دستہ تھا اس کا افسر ایک تجربہ کار بوڑھا شھر بَرازُ جَاذَوَیہ تھا۔اس نے اپنے دستوں کو لے کر مسلمانوں کا مقابلہ کیا۔شدید جنگ ہوئی۔جَازَ وَیہ نے مُبَارَز طلبی کی۔عبد اللہ بن ورقاء نے اس کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔سخت لڑائی کے بعد دشمن شکست کھا کر بھاگ گیا اور سپہ سالاراشتنداز نے عبد اللہ بن عبد اللہ سے مصالحت کر لی۔اسلامی لشکر خاص اصفہان کی طرف بڑھا جو کہ جی کے نام سے موسوم تھا اور شہر کا محاصرہ کر لیا۔ایک روز شہر کا حاکم فَاذُو شفان باہر نکلا اور عبد اللہ بن عبد اللہ امیر اسلامی لشکر کو کہا کہ ہماری افواج کی لڑائی سے بہتر ہے کہ ہم تم آپس میں لڑیں جو اپنے حریف پر غالب ہو گیا وہ فالح سمجھا جائے گا۔عبد اللہ نے یہ تجویز منظور کرلی اور کہا کہ پہلے تم حملہ کرو گے یا میں۔فاذ وشفان نے پہلے حملہ کیا۔عبد اللہ اس کے سامنے جمعے رہے اور دشمن کی ضرب سے صرف ان کے گھوڑے کی زین کٹ گئی۔عبد اللہ گھوڑے کی نگی پشت پر جم کر بیٹھ گئے اور وار کرنے سے پہلے اس کو مخاطب کیا۔اب ٹھہرے رہنا۔فَا ذُو شفان بولا کہ آپ کامل اور عظمند اور بہادر انسان ہیں میں آپ سے مصالحت کر کے شہر آپ کے سپرد کرنے کے لیے تیار ہوں چنانچہ صلح ہو گئی اور مسلمان شہر پر قابض ہو گئے۔طبری سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ فتح 21 / ہجری میں ہوئی۔275 مؤرخ بلاذری نے اس معرکے میں شریک ہونے والے اسلامی لشکر کی امارت پر عبد اللہ بن عبد اللہ کے بجائے عبد اللہ بن بدیل بن ورقاء خُزاعی کا نام لیا ہے۔مگر مؤرخ طبری نے لکھا ہے کہ بعض لوگوں نے عبد اللہ بن ورقاء اسدی کو جو اس معرکے میں 277 276 شریک تھے اور ایک بازو کے کمانڈر تھے عبد اللہ بن بدیل بن ورقاء سے مخلوط کر دیا ہے۔حالانکہ عبد اللہ بن بدیل، حضرت عمرؓ کے زمانے میں کم عمر تھے اور صفین کی جنگ میں جب وہ قتل ہوئے تو ان کی عمر صرف چوبیس سال تھی۔همدان کی بغاوت اور دوبارہ فتح۔نہاوند کے بعد مسلمانوں نے هَمَذَان بھی فتح کر لیا تھا تا ہم هَمَذَان والوں نے صلح کے معاہدے کو توڑ دیا اور آذربائیجان سے بھی فوجی مدد حاصل کر کے لشکر تیار کر لیا۔حضرت عمرؓ نے نعیم بن مقرن کو بارہ ہزار کے لشکر کے ساتھ وہاں جانے کی ہدایت فرمائی۔ایک سخت معرکے کے بعد مسلمانوں نے شہر فتح کر لیا۔278 حضرت عمر کو اس معرکے کے نتیجہ کی خاص فکر تھی۔قاصد فتح کی خوشخبری لایا۔حضرت عمرؓ نے اس کے ذریعہ نعیم بن مقرن کو حکم بھیجا کہ هَمَذَان میں کسی کو اپنا قائمقام بنا کر خود رے کی طرف بڑھیں اور وہاں جو لشکر ہے اس کو شکست دے کر رے میں ہی قیام کریں کیونکہ اس شہر کو اس تمام