اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 59
تاب بدر جلد 2 59 حضرت ابو بکر صدیق جان ! ہر گز نہیں۔وہ تو ہمارے لیے بہت سا مال چھوڑ گئے۔آپنے فرماتی ہیں کہ میں نے کچھ پتھر لیے اور ان کو گھر کے اس روشن دان میں رکھ دیا جہاں میرے والد مال رکھا کرتے تھے اور پھر میں نے ان پر کپڑا ڈال دیا اور اپنے دادا کا ہاتھ پکڑ کر میں نے کہا دادا جان اس مال پر اپنا ہاتھ تو رکھیں۔پس انہوں نے اس پر اپنا ہاتھ رکھا اور کہا کوئی حرج نہیں اگر وہ تمہارے لیے اتنا کچھ چھوڑ کر گیا ہے تو پھر اس نے اچھا کیا ہے۔حضرت اسماء فرماتی ہیں اللہ کی قسم! حضرت ابو بکر ہمارے لیے کچھ بھی چھوڑ کر نہیں گئے تھے مگر میں چاہتی تھی کہ اس بزرگ کو اس طرح اطمینان دلا سکوں۔165 166" حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے غارِ ثور سے روانگی کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ غارِ ثور سے نکل کر آپ ایک اونٹنی پر جس کا نام بعض روایات میں القضوا بیان ہوا ہے سوار ہو گئے اور دوسری پر حضرت ابو بکر اور ان کا خادم عامر بن فہیرہ سوار ہوئے۔روانہ ہوتے ہوئے آپ نے مکہ کی طرف آخری نظر ڈالی اور حسرت کے الفاظ میں فرمایا: اے مکہ کی بستی اتو مجھے سب جگہوں سے زیادہ عزیز ہے مگر تیرے لوگ مجھے یہاں رہنے نہیں دیتے۔اس وقت حضرت ابو بکر نے کہا۔ان لوگوں نے اپنے نبی کو نکالا ہے۔اب یہ ضرور ہلاک ہوں گے۔حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ دو دن اسی غار میں انتظار کرنے کے بعد پہلے سے طے کی ہوئی تجویز کے مطابق رات کے وقت غار کے پاس سواریاں پہنچائی گئیں اور دو تیز رفتار اونٹنیوں پر محمد رسول اللہ صلی الم اور آپ کے ساتھی روانہ ہوئے۔ایک اونٹنی پر محمد رسول اللہ صلی ال یکم اور رستہ دکھانے والا آدمی سوار ہوا۔“ یہ بھی ایک روایت میں آتا ہے کہ دونوں ایک سواری میں تھے۔ایک میں یہ کہ تین اونٹنیاں تھیں۔بہر حال اور دوسری اونٹنی پر حضرت ابو بکر اور ان کا ملازم عامر بن فہیرہ سوار ہوئے۔مدینہ کی طرف روانہ ہونے سے پہلے رسول کریم صلی علیہم نے اپنا منہ مکہ کی طرف کیا۔اس مقدس شہر پر جس میں آپ پیدا ہوئے ، جس میں آپ مبعوث ہوئے اور جس میں حضرت اسمعیل علیہ السلام کے زمانہ سے آپ کے آباؤ اجداد ر ہتے چلے آئے تھے آپ نے آخری نظر ڈالی اور حسرت کے ساتھ شہر کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا: اے مکہ کی نیستی ! تو مجھے سب جگہوں سے زیادہ عزیز ہے مگر تیرے لوگ مجھے یہاں رہنے نہیں دیتے۔اس وقت حضرت ابو بکر نے بھی نہایت افسوس کے ساتھ کہا: ان لوگوں نے اپنے نبی کو نکالا ہے اب یہ ضرور ہلاک ہوں گے۔ایک روایت کے مطابق جب جحصہ مقام پر پہنچے ، تحفہ مکہ سے تقریباً82 میل کے فاصلے پر ہے تو یہ آیت نازل ہوئی: إِنَّ الَّذِي فَرَضَ عَلَيْكَ الْقُرْآنَ تَرَادُّكَ إِلى مَعَادٍ (القصص:86) یقیناً وہ جس نے تجھ پر قرآن کو فرض کیا ہے تجھے ضرور ایک واپس آنے کی جگہ کی طرف واپس لے آئے گا۔168 ساری رات یہ سفر جاری رہا یہاں تک کہ جب دو پہر کا وقت ہونے لگا تو ایک چٹان کے سائے میں قافلہ استراحت کے لیے رکا۔حضرت ابو بکر نے بستر تیار کیا اور نبی اکرم صلی علیم سے آرام فرمانے کی درخواست کی۔چنانچہ نبی صلیا کر لیٹ گئے۔پھر حضرت ابو بکر باہر نکل گئے تا دیکھیں کہ تعاقب کرنے 1676