اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 58
اصحاب بدر جلد 2 58 حضرت ابو بکر صدیق اور حضرت اسماء کھانا لے کر آگئیں اور جس میں بکری کا بھنا ہوا گوشت تھا لیکن یہاں پہنچ کر خیال آیا کہ کھانا اور مشکیزہ باندھنے کے لیے کوئی کپڑا وغیرہ نہیں ہے تو حضرت اسماء نے اپنا نطاق کھول کر دو حصے کیے۔ایک سے کھانا اور ایک سے مشکیزے کا منہ باندھا۔نبی کریم صلی ا ہم نے حضرت اسماء کو جنت میں دو نطاقوں کی بشارت دی اور ان سب کو رخصت کیا اور یہ دعا کرتے ہوئے سفر شروع کیا: اللَّهُمَّ اصْعَبنِي فِي سَفَرِى وَاخْلُفْنِي فِي أَهْلِي کہ اے اللہ ! میرے سفر میں تو میر اسا تھی ہو جا اور میرے اہل میں میرا قائم مقام ہو جا۔164 سة جیسا کہ پہلے ذکر ہو چکا ہے کہ نطاق سے کھانا باندھنے کا واقعہ حضرت ابو بکر کے گھر سے چلتے وقت ہوا تھا لیکن بہر حال یہاں بھی یہ ذکر ملتا ہے۔تاریخ میں دو مواقع پر یہ ذکر ملتا ہے۔بعض کے نزدیک اس وقت جب نبی کریم صلی ال یہ ہجرت کے لیے مکہ میں حضرت ابو بکر کے گھر سے غارِ ثور کے لیے روانہ ہو رہے تھے اور بعض کے نزدیک اس وقت جب نبی کریم صلی اللہ تم غار ثور سے مدینہ کے لیے روانہ ہو رہے تھے۔بہر حال یہ دونوں ذکر ملتے ہیں لیکن بخاری میں حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہانے سفر ہجرت کی جو تفصیل بیان فرمائی ہے اس روایت کے تسلسل سے یہی تاثر ملتا ہے کہ یہ حضرت ابو بکر کے گھر سے روانگی کا واقعہ ہے۔لہذا ابخاری کی روایت کو ترجیح دینا زیادہ مناسب ہو گا کیونکہ اول تو غارِ ثور کے قیام کو جس طرح خفیہ رکھا گیا تھا وہاں حضرت اسماء کا کھانا لے کر جانا محل نظر ہو سکتا ہے جبکہ حضرت عبد اللہ بن ابو بکر اور حضرت عامر بن فہیر کا یہ دونوں مرد روزانہ چھپ کر جارہے تھے تو پھر ایک خاتون کا جانا حفاظت اور احتیاط کے تقاضوں کے منافی نظر آتا ہے۔بہر حال گھر میں بھی نطاق سے کھانا باندھنے کا جو واقعہ ہے اس میں حضرت اسماء کی فدائیت اور والہانہ محبت کی جھلک بھی نمایاں ہوتی ہے کہ بجائے اس کے کہ اس وقت کھانا باندھنے کے لیے کوئی اور چیز ڈھونڈنے میں وقت ضائع کریں (اپنا کمربند کھول کر کھانا باندھ دیا)۔غار میں تو کہا جا سکتا ہے کہ غار میں واقعہ ہوا ہو گا کیونکہ وہاں کوئی چیز نہیں تھی لیکن گھر میں بھی یہ واقعہ ہو سکتا ہے کہ فوری طور پر کوئی چیز نہ ملی ہو اور وقت ضائع ہونے کا خدشہ ہو تو اپنا کمر بند کھول کر کھانا باندھ کر حضرت ابو بکر اور آنحضرت صلی اللی کم کو رخصت کیا۔اس لیے بخاری کی روایت کے مطابق یہ زیادہ درست معلوم ہوتا ہے کہ کھانا باندھنے کا واقعہ حضرت ابو بکر کے گھر سے رخصت ہونے کا ہو گا نہ کہ غارِ ثور سے مدینہ کی طرف سفر کے آغاز کا۔بہر حال واللہ اعلم۔حضرت ابو بکر کا سارا سرمایہ ساتھ لے کر ہجرت کرنا حضرت اسمال بیان کرتی ہیں کہ جب رسول اللہ صل الی یم اور حضرت ابو بکر ہجرت کے لیے نکلے تو حضرت ابو بکڑ نے اپنا سارامال ساتھ لے لیا جو پانچ یا چھ ہزار دور ہم تھا۔آپ بیان کرتی ہیں کہ ہمارے دادا ابو قحافہ ہمارے پاس آئے۔اس وقت ان کی بینائی جاچکی تھی۔انہوں نے کہا اللہ کی قسم! میر اخیال ہے کہ وہ یعنی حضرت ابو بکر اپنی ذات کے ساتھ ساتھ اپنے مال کے ذریعہ بھی تم لوگوں کو مصیبت میں ڈال گیا ہے۔اس پر حضرت اسمامہ کہتی ہیں میں نے کہا کہ نہیں دادا