اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 60
اصحاب بدر جلد 2 60 حضرت ابو بکر صدیق والوں میں سے کوئی آتو نہیں رہا۔اتنے میں ڈور سے بکریوں کا ایک چرواہا بھی سائے کی تلاش میں ادھر آ نکلا۔حضرت ابو بکر کہتے ہیں کہ میں نے اس سے پوچھالڑ کے تم کس کے غلام ہو ؟ اس نے کہا قریش کے ایک شخص کا ہوں۔اس نے اس کا نام لیا اور میں نے اس کو پہچان لیا۔میں نے کہا کیا تمہاری بکریوں میں کچھ دودھ ہے۔اس نے کہا ہاں۔میں نے کہا کیا تم ہمارے لیے کچھ دودھ دوہو گے ؟ اس نے کہا ہاں۔چنانچہ میں نے اسے دودھ دوہنے کے لیے کہا۔اس نے اپنی بکریوں میں سے ایک بکری کی ٹانگ اپنی پنڈلی اور ران کے درمیان پکڑلی۔پھر میں نے اس کو کہا کہ پہلے تھن کو اچھی طرح صاف کرو۔پھر اپنی نگرانی میں دودھ برتن میں ڈلوایا۔اس میں پانی ڈالا تا کہ دودھ کی حدت کچھ کم ہو جائے اور دودھ آنحضور صلی یی کم کی خدمت میں پیش کیا۔بعض روایات میں ہے کہ جب حضرت ابو بکر دودھ لے کر حاضر ہوئے تو نبی اکرم صلی الی ابھی تک سوئے ہوئے تھے۔حضرت ابو بکر نے مناسب نہ سمجھا کہ آپ کے آرام میں خلل کیا جائے۔چنانچہ آپ کے بیدار ہونے کا انتظار کرنے لگے۔بیدار ہونے پر دودھ پیش کیا اور عرض کیا یا رسول اللہ پیئیں۔اور آپ نے اتنا یا کہ حضرت ابو بکر" کہتے ہیں کہ میں خوش ہو گیا۔پھر میں نے کہا یارسول اللہ ! کوچ کا وقت آ پہنچا ہے۔آپ نے فرمایا ہاں۔یا ایک روایت میں یہ ذکر ہے کہ نبی اکرم صلی الم نے فرمایا کہ اب سفر دوبارہ شروع کیا جائے؟ عرض کیا گیا جی میرے آقا۔چنانچہ سفر پھر شروع ہوا۔169 سراقہ بن مالک کا تعاقب اس کا واقعہ یہ ہے کہ اریقط * جیسے ماہر راستہ شناس کی نگرانی میں ساحلی بستیوں کی جانب سے مدینہ کی طرف یہ سفر شروع کیا گیا تھا جو کہ مدینہ کے عمومی راستے سے مختلف روٹ (route) تھا۔مکہ اور اس کے ارد گرد کی بستیوں میں سو اونٹ انعام کا اعلان عام ہو چکا تھا اور بہت سے لوگ چاہتے تھے کہ یہ گراں قدر انعام انہیں ملے۔سراقہ بن مالک بیان کرتے ہیں، بعد میں یہ مسلمان ہو گئے تھے اور اسلام لانے کے بعد انہوں نے خود یہ واقعہ بیان کیا ہے کہ ہمارے پاس کفار قریش کے ایلچی آئے۔ان لوگوں نے رسول اللہ صلی علیم اور حضرت ابو بکر ہر دو کی دیت مقرر کی ہوئی تھی ان لوگوں کے لیے جو ان دونوں کو قتل کرے گا یا انہیں زندہ پکڑلے گا۔سراقہ کہتے ہیں میں اپنی قوم بَنُو مُذلج کی ایک مجلس میں بیٹھا ہوا تھا کہ ایک شخص ان کے سامنے سے آیا اور ہمارے پاس کھڑا ہوا جبکہ ہم بیٹھے ہوئے تھے۔اس نے کہا کہ اے سراقہ !میں نے ساحل کی طرف کچھ سائے سے دیکھے ہیں یا کہا کہ تین افراد کا ایک قافلہ جاتے دیکھا ہے اور میر اخیال ہے کہ ہونہ ہو یہ محمد ہی ہیں۔سراقہ بن مالک کہتے ہیں کہ میں جان گیا کہ واقعی یہ محمد کا ہی قافلہ ہو گا لیکن میں نہیں چاہتا تھا کہ میرے ساتھ کوئی اور اس انعام میں شریک ہو۔اس لیے میں نے فوراً موقع کی نزاکت کو سنبھالا اور اس بتانے والے کو آنکھ سے اشارہ کیا کہ وہ خاموش رہے اور خود میں نے کہا کہ نہیں نہیں وہ * عبد اللہ بن اریقط