اصحابِ بدرؓ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 27 of 557

اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 27

حاب بدر جلد 2 27 حضرت ابو بکر صدیق حضرت ابو بکڑ نے جب اسلام قبول کیا تو ان کے پاس چالیس ہزار درہم تھے۔آپ نے اسے اللہ کی راہ میں خرچ کیا اور ان سات کو آزاد کروایا جن کو اللہ کی وجہ سے تکلیف دی جاتی تھی۔آپ نے حضرت بلال، عامر بن فهيره زنيره نَهْدِيَّه اور ان کی بیٹی، بنی مؤمل کی ایک لونڈی اور ام عبیس کو آزاد کر وایا۔81 حضرت بلال بنو مجمع کے غلام تھے اور امیہ بن خلف آپ کو شدید تکلیف پہنچایا کرتا تھا۔82 ایک روایت میں ہے کہ جب حضرت بلال ایمان لائے تو حضرت بلال کو ان کے مالکوں نے پکڑ کر زمین پر لٹا دیا اور ان پر سنگریزے اور گائے کی کھال ڈال دی اور کہنے لگے کہ تمہارا رب لات اور عزیٰ ہے۔مگر آپ احد! احد! کہتے تھے۔آپ کے پاس حضرت ابو بکر آئے اور کہا کہ کب تک تم اس شخص کو تکلیف دیتے رہو گے۔راوی کہتے ہیں کہ حضرت ابو بکر نے حضرت بلال کو سات اوقیہ میں خرید کر انہیں آزاد کر دیا یعنی چالیس درہم کا ایک اوقیہ ہے دو سو اسی درہم میں خریدا۔پھر حضرت ابو بکڑ نے یہ واقعہ رسول اللہ صلی علیکم کی خدمت میں بیان کیا تو آپ صلی اللہ ﷺ نے فرمایا اے ابو بکر ! مجھے بھی اس میں شریک کر لو۔حضرت ابو بکر نے عرض کیا یارسول اللہ ! میں نے اسے آزاد کر دیا ہے۔حضرت عامر بن فهیدہ ایک سیاہ فام غلام تھے۔آپ طفیل بن عبد اللہ بن سخبرہ کے غلام تھے جو کہ والدہ کی طرف سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے بھائی تھے۔حضرت عامر اسلام لانے والے سابقین میں شامل تھے۔آپ کو اللہ تعالیٰ کی راہ میں تکالیف پہنچائی گئیں۔حضرت ابو بکر نے آپ کو خریدا 84 83 رض اور آزاد کر دیا۔4 حضرت زیدہ رومی اسلام میں سبقت لے جانے والی خواتین میں سے تھیں۔انہوں نے اسلام کے آغاز میں ہی اسلام قبول کر لیا تھا۔مشرکین آپ کو اذیتیں دیتے تھے۔یہ کہا جاتا ہے کہ آپ بنو مخزوم کی لونڈی تھیں اور ابو جہل آپ کو اذیت دیا کر تا تھا اور کہا جاتا ہے کہ آپ بنو عبد الدار کی لونڈی تھیں۔جب انہوں نے اسلام قبول کیا تو ان کی بینائی چلی گئی۔اس پر مشرکین نے کہا کہ لات اور عُری نے ان دونوں کے انکار کرنے کی وجہ سے زیرہ کو اندھا کر دیا ہے۔اس پر حضرت زنیرہ نے کہا کہ لات اور مغربی تو یہ بھی نہیں جانتے کہ ان دونوں کی عبادت کون کرتا ہے، مجھے کیا اندھا کرنا تھا۔ان کو تو خود نظر نہیں آتا۔یہ تو آسمان سے ہے۔اللہ کی مرضی میری نظر چلی گئی اور میر ارب میری بینائی لوٹانے پر قادر ہے۔یہ جواب دیا کافروں کو۔اگلے دن انہوں نے اس حالت میں صبح کی، رات سوئیں اگلے دن جب اٹھیں تو اللہ تعالیٰ نے آپؐ کی بینائی کو ٹادی تھی، نظر ٹھیک ہو چکی تھی۔اس پر قریش نے کہا کہ یہ تو محمد کے جادو کی وجہ سے ہوا ہے۔جب حضرت ابو بکڑ نے وہ تکالیف دیکھیں جو آپ کو پہنچائی جاتی تھیں تو آپ نے ان کو خریدا اور آزاد کر دیا۔85