اصحابِ بدرؓ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 26 of 557

اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 26

تاب بدر جلد 2 26 حضرت ابو بکر صدیق قریب کوئی نہ گیا مگر حضرت ابو بکر اپنی تلوار کو سونتے ہوئے رسول اللہ صلی الی تم پر کھڑے ہو گئے یعنی رسول اللہ صلی علیم کے پاس کوئی مشرک نہیں پہنچے گا مگر پہلے وہ حضرت ابو بکڑ سے مقابلہ کرے گا۔پس وہ سب سے بہادر شخص ہیں۔حضرت علی کہتے ہیں کہ ایک دفعہ کی بات ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی علیکم کو دیکھا کہ قریش نے آپ کو پکڑا ہوا ہے۔کوئی آپ پر غصہ اتار تا۔کوئی آپ کو تنگ کرتا اور وہ لوگ کہتے کہ تم نے تمام معبودوں کو ایک معبود بنا دیا ہے۔اللہ کی قسم ! جو بھی آپ صلی علیم کے قریب آتا حضرت ابو بکر کسی کو مار کر بھگاتے۔کسی کو برابھلا کہہ کر دور کرتے اور کہتے تمہاری ہلاکت ہو، انقتُلُونَ رَجُلًا أَنْ يَقُولُ رَبِّيَ الله (اء من (29) کیا تم محض اس لیے ایک شخص کو قتل کرو گے کہ وہ کہتا ہے کہ میرا رب اللہ ہے۔پس حضرت علی نے اپنی چادر ہٹائی اور اس قدر روئے کہ آپ کی داڑھی تر ہو گئی۔پھر فرمایا میں تمہیں اللہ کی قسم دیتا ہوں کہ کیا آل فرعون کا مومن بہتر تھا یا حضرت ابو بکر۔غالباً حضرت علی نے آل فرعون کے مومن کا ذکر اس لیے کیا کہ قرآن کریم میں یہ آیت آلِ فرعون کے اس شخص کی طرف منسوب ہے جو اپنے ایمان کو چھپائے ہوئے تھا اور فرعون کے دربار میں یہ کہہ رہا تھا کہ اتَقْتُلُونَ رَجُلًا أَنْ يَقُولَ رَبِّيَ الله اس پر لوگ خاموش ہو گئے۔حضرت علی نے فرمایا اللہ کی قسم حضرت ابو بکر کی ایک گھڑی آل فرعون کے مومن کی زمین بھر کی نیکیوں سے بہتر ہے کیونکہ وہ شخص اپنے ایمان کو چھپا تا تھا اور یہ شخص یعنی حضرت ابو بکر اپنے ایمان کا اعلان کرتا تھا۔78 حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ ”جب ہم رسول کریم علی ایم کی زندگی کے واقعات کو دیکھتے ہیں تو ہمیں یہ دعویٰ ایک حقیقت بن کر نظر آتا ہے اور ہمیں قدم قدم پر ایسے واقعات دکھائی دیتے ہیں جو آپ کی اس عظیم الشان محبت اور شفقت کا ثبوت ہیں جو آپ صلی علیہ کم کو بنی نوع انسان سے تھی۔چنانچہ آپ کو خدائے واحد کا پیغام پہنچانے کے لئے سالہا سال تک ایسی تکالیف میں سے گزرنا پڑا کہ جن کی کوئی حد نہیں۔ایک دفعہ خانہ کعبہ میں کفار نے آپ کے گلے میں پڑکا ڈال کر اتنا گھونٹا کہ آپ کی آنکھیں سرخ ہو کر باہر نکل پڑیں۔حضرت ابو بکر نے سنا تو وہ دوڑے ہوئے آئے اور رسول کریم صلی علیکم کو اس تکلیف کی حالت میں دیکھ کر آپ کی آنکھوں میں آنسو آگئے اور آپ نے ان کفار کو ہٹاتے ہوئے کہا۔خدا کا خوف کرو۔کیا تم ایک شخص پر اس لئے ظلم کر رہے ہو کہ وہ کہتا ہے خدا میر ارب ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: ”ایک دفعہ چند دشمنوں نے آپ صلی اللہ تم کو تنہا پا کر پکڑ لیا اور آپ کے گلے میں پڑک ڈال کر اسے مروڑ نا شروع کیا۔قریب تھا کہ آپؐ کی جان نکل جائے کہ اتفاق سے ابو بکر آنکلے اور انہوں نے مشکل سے چھڑایا۔اس پر ابو بکر کو اس قدر مارا پیٹا کہ وہ بیہوش ہو کر زمین پر گر پڑے۔غلاموں کو آزاد کرنا 8066 79❝ غلاموں کو آزاد کروانے کے بارے میں حضرت ابو بکر کے بارے میں روایات میں لکھا ہے کہ