اصحابِ بدرؓ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 28 of 557

اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 28

ناب بدر جلد 2 28 حضرت ابو بکر صدیق حضرت ابو بکر نے مہدیہ اور ان کی بیٹی دونوں کو آزاد کرایا۔یہ دونوں بنو عبد الدار کی ایک عورت کی لونڈیاں تھیں۔حضرت ابو بکر ان دونوں کے پاس سے گزرے اس وقت ان کی مالکہ نے ان کو آٹا پینے کے واسطے بھیجا تھا اور وہ مالکہ یہ کہ رہی تھی کہ اللہ کی قسم! میں تمہیں کبھی آزاد نہیں کروں گی یا جس کی بھی قسم وہ کھارہی تھی۔بہر حال حضرت ابو بکڑ نے کہا اے اہم فلاں! اپنی قسم کو توڑ دو۔اس نے کہا جاؤ جاؤ! تم نے ہی تو ان کو خراب کیا ہے۔تمہیں اگر اتنا ہی خیال ہے تو تم ان دونوں کو آزاد کر والو۔حضرت ابو بکر نے کہا کہ ان دونوں کے بدلے میں کتنی قیمت دوں ؟ اس نے کہا کہ اتنی اور اتنی۔حضرت ابو بکر نے کہا کہ میں نے ان دونوں کو لے لیا اور یہ دونوں آزاد ہیں۔پھر آپ نے ان سے کہا کہ اس عورت کا آٹا واپس دے دو یعنی ان دونوں کو جن کو لونڈی بنایا گیا تھا کہا کہ اس عورت کا آٹا واپس دے دو جو پسانے کے لیے لے کر جارہی تھیں۔ان دونوں نے کہا اے ابو بکر ؟ کیا ہم اس کام سے فارغ ہو لیں اور اس آٹا کو واپس کر دیں ؟ یعنی جو ہمارے ذمہ کام لگایا گیا ہے وہ کر لیں اور آٹا پسوا کر چھوڑ آئیں ؟ حضرت ابو بکڑ نے فرمایا کہ ٹھیک ہے۔اگر تم دونوں چاہتی ہو تو ایسا ہی کر لو۔حضرت ابو بکر ایک دفعہ بَنُو مُؤمل کی ایک لونڈی کے پاس سے گزرے۔بَنُو مُؤَمِّلُ بَنُو عَدِي بن گغب کا ایک قبیلہ تھا۔وہ لونڈی مسلمان تھی۔عمر بن خطاب اس کو ایذا دے رہے تھے تاکہ وہ اسلام کو چھوڑ دے۔حضرت عمرؓ اُن دنوں ابھی مشرک تھے۔اسلام قبول نہیں کیا تھا اور انہیں مارا کرتے تھے یہاں تک کہ جب وہ تھک جاتے تو کہتے کہ میں تمہیں بتاتا ہوں کہ میں نے تمہیں صرف تھکاوٹ کی وجہ سے چھوڑا ہے۔اس پر وہ کہتی کہ اللہ تمہارے ساتھ بھی اسی طرح کرے گا۔پھر حضرت ابو بکر نے اسے بھی خرید کر آزاد کر دیا تھا۔ایک روایت میں ہے کہ حضرت ابو بکر کے والد ابو قحافہ نے ان سے کہا کہ اے میرے بیٹے ! میں دیکھتا ہوں کہ تم کمزور لوگوں کو آزاد کرا رہے ہو۔اگر تم ایسا کرنا چاہتے ہو جو تم کر رہے ہو تو تم طاقتور مردوں کو آزاد کرواؤ تا کہ وہ تمہاری حفاظت کریں اور وہ تیرے ساتھ کھڑے ہوں۔راوی کہتے ہیں کہ حضرت ابو بکر نے کہا کہ اے میرے پیارے باپ! میں تو محض اللہ عزوجل کی رضا چاہتا ہوں۔86 حضرت ابو بکر کی شان میں آیات کا نزول چنانچہ بعض مفسرین علامہ قرطبی اور علامہ آلوسی و غیرہ کہتے ہیں کہ درج ذیل آیات اللہ تعالیٰ نے حضرت ابو بکر کے اسی عمل کی وجہ سے آپ کی شان میں نازل فرمائی ہیں کہ فَأَمَّا مَنْ اَعْطَى وَاتَّقَى وَصَدَقَ بِالْحُسْنَى فَسَنُيَسِرُهُ لِلْيُسْرَى وَ أَمَّا مَنْ بَخِلَ وَاسْتَغْنى وَ كَذَّبَ بالْحُسْنَى فَسَنُيَسِرُهُ لِلْعُسْرِى وَمَا يُغْنِي عَنْهُ مَالَةٌ إِذَا تَرَدُّى إِنَّ عَلَيْنَا لَلْهُدَى وَإِنَّ لَنَا لَلْآخِرَةَ وَالْأُولى فَاَنْذَرْتُكُمْ نَارًا تَكفى لا يَصْلهَا إِلَّا الْاَشْقَى الَّذِى كَذَّبَ وَتَوَلَّى وَسَيُجَنَّبُهَا الْأَنْقَى الَّذِي يُؤْتِ مَالَهُ وَمَا لِاَحَدٍ عِنْدَهُ مِنْ نِعْمَةٍ تُجْزَى إِلَّا ابْتِغَاءَ وَجْهِ رَبِّهِ الْأَعْلَى وَ لَسَوفَ يَرْضى۔(سورة الليل 6 تا22) رو!