اصحابِ بدرؓ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 319 of 557

اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 319

صحاب بدر جلد 2 319 حضرت ابو بکر صدیق کے باوجود مسلمانوں کو زبر دست فتح حاصل ہوئی اور بلاشبہ یہ معرکہ تاریخی اور فیصلہ کن معرکوں میں سے رہا۔اگر چہ اس کو وہ شہرت حاصل نہ ہوئی جو دیگر بڑے معرکوں کو حاصل ہوئی لیکن بہر حال اس سے کفار کی اندرونی قوت ختم ہو گئی خواہ وہ ایران سے تعلق رکھتے ہوں یا روم سے یا عرب اور عراق سے۔عراق میں خالد سیف اللہ نے جو معرکے سر کیے یہ اس کی آخری کڑی تھی۔اس معرکہ کے بعد ایرانیوں کی شان و شوکت خاک میں مل گئی۔پھر اس کے بعد ان کو ایسی جنگی قوت حاصل نہ ہو سکی جس سے مسلمان خوفزدہ ہوں۔751 ایک مورخ نے جنگ فراض کی اہمیت کو کچھ یوں بیان کیا ہے کہ الیس میں مسلمانوں کی فتح کے بعد ایرانی لشکر کی کمر ٹوٹ گئی۔حضرت خالد بن ولید نے پیش قدمی جاری رکھی اور بالترتیب امغیشیا، حیرہ، انبار ، عین التمر اور دومۃ الجندل کو فتح کر لیا اور بالآخر فراض کے مقام تک جاپہنچے۔فراض دریائے فرات پر واقع ایک شہر تھا جو کہ سلطنت روم کی سرحد سے بہت نزدیک تھا۔یہاں رومیوں، ایرانیوں اور عیسائی قبائل کا متحدہ لشکر مسلمانوں سے نبرد آزما ہوالیکن حضرت خالد بن ولید نے کفار کی اس بھاری جمعیت کو بھی شکست فاش دی۔فاتح عراق سید نا خالد بن ولید نے عراق کو ایک سال دو ماہ میں فتح کر لیا۔ان کے ساتھ کل دس ہزار فوجی تھے اور تقریباً اتنے ہی فوجی دیگر اسلامی سپہ سالاروں کے ساتھ تھے۔اتنی قلیل فوج نے اس مدت میں جو شاندار کارنامے سر انجام دیے وہ تاریخ میں بے مثال ہیں۔حضرت خالد بن ولید مہر معرکہ میں شامل ہوئے، انہیں کسی موقع پر بھی شکست کا منہ نہ دیکھنا پڑا۔دربار رسالت صلی العلیم سے آپ کو سیف اللہ یعنی اللہ کی تلوار کا خطاب ملا تھا اور آپ نے اس خطاب کا حق ادا کر دیا۔پھر آپ نے جو علاقے فتح کیے ان میں اتنا عمدہ بند وبست کیا کہ لوگ ایرانی حکومت کے مقابلے میں عرب حکومت کو پسند کرنے لگے۔بہر حال عراق کی آخری فتح فراض مقام کی فتح تھی۔حضرت خالد دس روز تک فراض میں قیام پذیر رہے۔پھر نصف لشکر لے کر شام کے محاذ پر روانہ ہو گئے۔عراق کی فتح پر ایک نظر ڈالتے ہیں۔اس بارے میں لکھا ہے کہ عراق پر چڑھائی بہت بڑی کامیابی کی علامت تھی۔وہاں مسلمانوں نے فارسی افواج کو جو ان سے تعداد اور سامان حرب میں کہیں زیادہ طاقتور تھیں پے در پے تباہ کن شکستیں دیں۔یادر ہے کہ فارسی لشکر اپنے وقت کا سب سے مہلک جنگی لشکر تھا۔عہد صدیقی کا یہ ایک ایسا عظیم الشان کارنامہ ہے جس کی مثال تاریخ پیش کرنے سے قاصر ہے۔اس میں شک نہیں کہ عسکری میدان میں تمام تر کامیابی خالد بن ولید اور ان کے رفقاء وسپہ سالاروں کی مرہون منت ہے مگر اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا کہ ان فتوحات اور کامیابیوں کو حضرت ابو بکر جیسی عظیم شخصیت کی سر پرستی حاصل تھی۔تاریخ گواہ ہے کہ کسی فوج کا کوئی بڑے سے بڑا باصلاحیت سپہ سالار ایسے تیقین اور یکسوئی اور وفاداری اور خلوص کا مظاہرہ نہیں کر سکتا جب تک اسے سر براہ مملکت کی ذاتی خوبیوں اور اعلیٰ کردار نے متاثر نہ کیا ہو۔