اصحابِ بدرؓ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 318 of 557

اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 318

صحاب بدر جلد 2 318 حضرت ابو بکر صدیق واسطہ نہ پڑا تھا اور وہ ان کے حملے کی شدت سے ناواقف تھے۔جب اسلامی فوجیں فراض میں اکٹھی ہو گئیں اور برابر ایک مہینے تک ان کے سامنے ڈیرے ڈالے پڑی رہیں تو انہیں بہت جوش آیا اور انہوں نے اپنے قریب کی ایرانی چوکیوں سے مدد مانگی۔ایرانیوں نے بڑی خوشی سے رومیوں کی مدد کی کیونکہ مسلمانوں نے انہیں ذلیل ورسوا کر دیا تھا اور ان کی شان و شوکت کو تہ و بالا کر کے ان کا غرور خاک میں ملا دیا تھا۔ایرانیوں کے علاوہ تغلب، ایاداور نمر کے عربی النسل قبائل نے بھی رومیوں کی پوری پوری مدد کی کیونکہ وہ اپنے رؤوسا اور سر بر آوردہ اشخاص کے قتل کو بھولے نہیں تھے۔چنانچہ رومیوں، ایرانیوں اور عربی النسل قبائل کا ایک بہت بڑا لشکر مسلمانوں سے لڑنے کے لیے روانہ ہوا۔دریائے فرات پر پہنچ کر انہوں نے مسلمانوں کو کہلا بھیجا کہ تم دریا کو عبور کر کے ہماری طرف آؤ گے یا ہم دریا کو عبور کر کے تمہاری طرف آئیں۔حضرت خالد نے جواب دیا تم ہی ہماری طرف آجاؤ۔تم لڑنے آئے ہو تو ادھر آ جاؤ۔چنانچہ دشمن کا لشکر دریا عبور کر کے دوسری جانب اترنا شروع ہوا۔اس دوران میں حضرت خالد بن ولید نے اپنے لشکر کی اچھی طرح اور باقاعدہ صفیں قائم کر کے انہیں دشمن سے لڑنے کے لیے پوری طرح تیار کر دیا۔جب لڑائی شروع ہونے کا وقت آیا تو رومی لشکر کے سپہ سالار نے فوج کو حکم دیا کہ تمام قبائل علیحدہ علیحدہ ہو جائیں تاکہ معلوم ہو سکے کس گروہ نے زیادہ شاندار کارنامہ انجام دیا ہے چنانچہ ساری فوج اپنے اپنے سر داروں کے ساتھ علیحدہ علیحدہ ہو گئی۔لڑائی شروع ہوئی تو حضرت خالد بن ولید نے اپنی فوج کو حکم دیا کہ وہ چاروں طرف سے دشمن کو گھیر لیں اور انہیں ایک جگہ جمع کر دیں۔اس طرح پے در پے حملے کریں کہ سنبھلنے کا موقع ہی نہ مل سکے۔چنانچہ ایسا ہی ہوا۔اسلامی دستوں نے رومی لشکر کو گھیر کر ایک جگہ جمع کر دیا اور ان پر پر زور حملے شروع کر دیے۔رومیوں اور ان کے حلیفوں کا خیال تھا کہ وہ قبائل کو علیحدہ علیحدہ مسلمانوں کے مقابلے میں بھیج کر لڑائی کو زیادہ طول دے سکیں گے اور جب مسلمان تھک کر چور ہو جائیں گے تو ان پر بھر پور حملہ کر کے انہیں مکمل طور پر شکست دے دیں گے لیکن ان کا یہ خیال خام ثابت ہوا اور ان کی تدبیر خود ان پر الٹ پڑی۔جب مسلمانوں نے انہیں ایک جگہ جمع کر کے ان پر حملے شروع کیے تو وہ ان کی تاب نہ لا سکے اور بہت جلد شکست کھا کر میدان جنگ سے فرار ہونے لگے لیکن مسلمان انہیں کہاں چھوڑنے والے تھے، انہوں نے ان کا پیچھا کیا اور دور تک انہیں قتل کرتے چلے گئے۔تمام مؤرخین اس امر پر متفق ہیں کہ اس معرکہ میں میدانِ جنگ اور بعد ازاں تعاقب میں دشمن کے ایک لاکھ آدمی کام آئے۔فتح کے بعد حضرت خالد نے فراض میں دس دن قیام کیا اور پھپیں ذی قعدہ بارہ ہجری کو انہوں نے اپنی فوج کو واپس حیرہ کی طرف کوچ کرنے کا حکم دیا۔750 ایک مصنف اس جنگ پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتا ہے کہ مسلمانوں نے حضرت ابو بکرؓ کے عہدِ خلافت میں پہلی مرتبہ روم و ایران کی دونوں سپر طاقتوں اور ان کے ہمنوا عرب فوجوں کا مقابلہ کیا۔اس