اصحابِ بدرؓ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 320 of 557

اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 320

اصحاب بدر جلد 2 320 حضرت ابو بکر صدیق منکرین اور ارتداد اور بغاوت کی جنگوں سے لے کر فتح عراق کے تمام مراحل کے دوران جس ذاتی نمونے، حسن انتظام اور استقلال کا مظاہرہ حضرت ابو بکر صدیق نے پیش کیا اس نے امت مسلمہ کے دلوں کو بڑی سے بڑی قربانی کے لیے گرمائے رکھا۔جہاں ان کے تمام احکامات اور ہدایات جامعیت اور فہم و فراست سے لبریز تھے وہاں ان کا ذاتی کردار ان سے کہیں زیادہ ممتاز تھا۔کوئی راہنما استقلال اور اولوالعزمی کا اس سے بڑھ کر ثبوت کیا پیش کر سکتا ہے کہ ابتدا سے انتہا تک کوئی ایسا موقع نظر نہیں آیا جہاں انہوں نے اپنے جاری کردہ احکام اور ضوابط کو ذاتی و قار یا کسی شخصی دباؤ کے سامنے جھک کر تبدیل کیا ہو۔یہی نہیں بلکہ باصلاحیت ماتحتوں کی کارگزاری کے لیے اعلیٰ معیار کو قائم رکھنے کے لیے اور ایثار و قربانی کے جذبے کو فزوں تر کرنے کے لیے جس حسن ظن اور اعتماد کا نمونہ حضرت ابو بکر نے پیش کیا اس کی مثال ڈھونڈے سے نہیں ملتی۔کیا کوئی ماتحت ایسے راہنما کے احکام کو عملی جامہ پہنانے میں کوئی کسر اٹھا رکھے گا جو بذات خود اپنے راہنما کے ارشادات و فرمودات اور اقدار کی خاطر انتہائی وفاداری اور بے دریغ قربانی پیش کرنے کا زندہ نمونہ ہو جیسا کہ صدیق اکبر خود تھے۔سیدنا حضرت خالد کی عسکری قابلیت بجا طور پر ان کو دنیا کے عظیم سپہ سالاروں کی صف میں لا کر کھڑا کر دیتی ہے اپنے مخالفین کے مقابلے میں جن حکمت حرب کے اصولوں کو سید نا خالد نے اپنا یا بلکہ یہ کہناز یادہ مناسب ہو گا کہ سید نا خالد نے جن اصولوں کو مرتب کیا وہ عسکری تاریخ کے درخشندہ باب ہیں۔سید ناخالد کی ہمت طلب منصوبوں کو کامیاب بنانے کے لیے مسلمانوں کی جنگی صلاحیت اور ان کی فوج کی مسلسل حرکت ان کے سب سے اہم وسیلے تھے۔ان دونوں چیزوں سے سید نا خالد نے قوت برداشت کی آخری حد تک استفادہ کیا اور یہ صرف اس لیے ممکن تھا کہ انہوں نے اپنے سپاہ کو کبھی ایسی مشکل میں نہیں ڈالا جس کو انہوں نے خود نہ جھیلا ہو۔جہاں خلیفہ اول کو تاریخ اسلام میں ایک ممتاز ترین مقام حاصل ہے وہاں پر سید نا خالد بھی ان نامور سپہ سالاروں میں سے سب سے پہلے تھے جو بیرونی علاقوں کو فتح کرنے اور دنیا کے سیاسی و مذہبی نقشے کو نئی شکل دینے میں حضرت ابو بکر صدیق کے دست راست تھے۔جس طرح ہر مسلمان حضرت ابو بکر صدیق کی سیاسی و روحانی راہنمائی میں اور سید نا خالد کی عسکری قیادت کے ذریعہ عراق کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک ایک تند طوفان کی طرح چھا گئے اب وہ اسی طرح ایک دوسری سلطنت پر دھاوا کرنے والے تھے اور وہ مشرقی روما تھا۔752 شام کی طرف پیش قدمی حضرت ابو بکر صدیق باغی مرتدین کی سرکوبی سے فارغ ہو گئے اور عرب مستقام ہو گیا تو آپ نے بیرونی جارحیت کے مرتکب مخالفین میں سے اہل روم سے جنگ کرنے کے متعلق سوچا؛ مگر ابھی تک کسی کو اس سے آگاہ نہیں کیا تھا۔یہ لوگ جارح قوم تھے۔مسلمانوں کو تنگ کرتے رہتے تھے۔ملک شام کی