اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 47
بدر جلد 2 47 حضرت ابو بکر صدیق 130❝ 129❝ آپ سے چھپنے لگ گئے تاکہ ان کے ارادوں کی محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کو خبر نہ ہو جائے۔اس رات سے پہلے دن ہی آپ کے ساتھ ہجرت کرنے کے لئے ابو بکر کو بھی اطلاع دے دی گئی تھی۔پس وہ بھی آپ کو مل گئے اور دونوں مل کر تھوڑی دیر میں مکہ سے روانہ ہو گئے۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے مطابق نبی کریم صلی ا سلام صبح کے وقت گھر سے نکلے تھے۔چنانچہ آپ فرماتے ہیں کہ آنحضرت صلی یہ کام کو جاتے وقت کسی مخالف نے نہیں دیکھا حالانکہ صبح کا وقت تھا اور تمام مخالفین آنحضرت صلی نم کے گھر کا محاصرہ کر رہے تھے۔سو خدائے تعالیٰ نے جیسا کہ سورۂ لیسین میں اس کا ذکر کیا ہے ان سب اشقیا کی آنکھوں پر پردہ ڈال دیا اور آنحضرت ان کے سروں پر خاک ڈال کر چلے گئے۔بہر حال مختلف روایتیں ہیں لیکن نتیجہ یہی ہے کہ کفار کو پتہ نہیں لگا۔پھر یہ بھی مختلف روایات ہیں کہ : اپنے گھر سے نکل کر نبی اکرم ملی و کم کس طرف تشریف لے گئے۔ایک روایت سے یہ تاثر ملتا ہے کہ آنحضرت صلی علیہ کم اپنے گھر سے نکلے ہوں گے اور حضرت ابو بکر اپنے گھر سے اور راستے میں کسی ایک جگہ پر دونوں اکٹھے ہو کر غارِ ثور کی طرف چل پڑے۔ایک روایت میں ہے کہ نبی اکرم صلی للی کم اپنے گھر سے غارِ ثور کی طرف نکلے اور کچھ دیر بعد ابو بکر آپ کے گھر پہنچے تو حضرت علی نے انہیں فرمایا کہ وہ تو جاچکے ہیں اور غار ثور کی طرف تشریف لے جا رہے ہیں اس لیے آپ بھی ان کے پیچھے پیچھے چلے جائیں۔چنانچہ حضرت ابو بکر نبی اکرم صلی علیم کے پیچھے 131 چلے گئے۔132 بہر حال یہ روایت تو بہت کمزور لگتی ہے۔اس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ گویا نبی اکرم صلی علیکم حضرت ابو بکر سکا انتظار فرماتے رہے اور وہ لیٹ ہو گئے اور حضرت ابو بکر کو یہ بھی علم نہیں کہ نبی اکرم صلی علیکم کدھر گئے ہوں گے اور سب کچھ حضرت علی اب انہیں بتا رہے ہیں۔ہجرت جیسا اہم ترین راز دارانہ سفر اور حضرت ابو بکر جیسا فہیم اور ذمہ دار شخص اس طرح کی لاپروائی کا مر تکب ہو یہ ممکن نہیں ہو سکتا۔اس لیے اس روایت کی نسبت دوسری روایت جو زیادہ تر کتب میں موجود ہے وہ زیادہ درست اور قرین قیاس معلوم ہوتی ہے کیونکہ اس کے مطابق آنحضرت صلی للی علم اپنے گھر سے نکل کر سیدھے حضرت ابو بکر کے ر تشریف لے گئے اور وہاں سے حضرت ابو بکر کے ساتھ غارِ ثور کی طرف روانہ ہوئے۔3 133 ابو بکر کی دو بہادر اور وفادار بیٹیاں اس موقع پر حضرت ابو بکر کی دو با وفا بہادر بیٹیوں حضرت عائشہ اور حضرت اسماء نے سفر کے لیے کھانا بھی جلدی جلدی تیار کر دیا تھا جس میں بھنی ہوئی بکری کا گوشت بھی تھا۔حالات کی نزاکت اور جلدی میں کھانے کا بر تن جو چمڑے کا تھا باندھنے کو کچھ نہ ملا تو حضرت اسماء نے اپنا نطاق یعنی کمر بند کھولا اور اس کے دو حصے کیے اور کھانا باندھا۔ایک سے توشہ دان اور دوسرے سے مشکیزے کا منہ باندھ دیا۔134