اصحابِ بدرؓ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 46 of 557

اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 46

محاب بدر جلد 2 46 حضرت ابو بکر صدیق عشق است که این کار بصد صدق گنانَد 124" کس بہر گسے سر نَدِ ہد جان نفشاند یعنی کوئی شخص کسی دوسرے کے لیے سر نہیں دیتا نہ ہی جان چھڑکتا ہے۔یہ عشق ہے جو یہ کام انسان سے بصد صدق کرواتا ہے۔بہر حال یہ وقت کے بارے میں روایات ہیں۔اس میں اختلاف ہے۔کچھ کہتے ہیں پہلے وقت، کچھ کہتے ہیں درمیانی رات، کچھ کہتے ہیں آخری وقت۔بہر حال کس وقت آنحضرت صلی می کنم اپنے گھر سے نکلے اس بارے میں جو روایات میں اختلاف ہے اس کا ذکر کر تا ہوں۔ایک روایت میں ذکر ہے کہ آپ رات کی آخری تہائی میں گھر سے باہر تشریف لائے تھے۔چنانچہ محمد حسین ہیکل لکھتے ہیں کہ رات کی آخری تہائی میں حضرت محمد صلی للی کم ان مشرکین کی غفلت کی وجہ سے حضرت ابو بکر کے گھر کی طرف نکلے اور وہاں سے دونوں گھر کے پچھلے دروازے سے نکل کر جنوب میں غار ثور کی طرف چل پڑے۔125 پھر ایک روایت میں یہ ذکر ہے کہ آپ آدھی رات کے وقت نکلے۔سة 127" چنانچہ دلائل النبوہ میں لکھا ہے کہ رسول اللہ صلی اللی کم اور حضرت ابو بکر آدھی رات کے وقت غار ثور کی طرف روانہ ہوئے تھے۔126 مدارج النبوة میں لکھا ہے کہ ”جب حضور اکرم صلی للی یکم نے ارادہ فرمایا کہ صبح کے وقت ہجرت کر جائیں تو شام ہی کو حضرت علی مرتضی گرمَ اللهُ وَجْهَہ سے فرمایا کہ آج رات تم یہیں سونا تا کہ مشرکین شک وشبہ میں مبتلا ہو کر حقیقت حال سے باخبر نہ ہوں۔حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے جو لکھا ہے، وہ یہ ہے کہ نبی کریم اول شب اپنے گھر سے نکلے تھے۔چنانچہ اس کی تفصیل میں لکھتے ہیں کہ ”محاصرین آپ کے دروازے کے سامنے موجود تھے مگر چونکہ انہیں یہ خیال نہیں تھا کہ آنحضرت صلی علی کم اس قدر اول شب میں ہی گھر سے نکل آئیں گے وہ اس وقت اس قدر غفلت میں تھے کہ آپ ان کے سروں پر خاک ڈالتے ہوئے ان کے درمیان سے نکل گئے اور ان کو خبر تک نہ ہوئی۔اب آنحضرت صلی للی کم خاموشی کے ساتھ مگر جلد جلد مکہ کی گلیوں میں سے گذررہے تھے اور تھوڑی ہی دیر میں آبادی سے باہر نکل گئے اور غار ثور کی راہ لی۔حضرت ابو بکر کے ساتھ پہلے سے تمام بات طے ہو چکی تھی وہ بھی راستہ میں مل گئے۔128 حضرت مصلح موعودؓ نے جو روایات سے لے کے فرمایا ہے وہ یہ ہے کہ ”جب مکہ کے لوگ آپ کے گھر کے سامنے آپ کے قتل کے لئے جمع ہو رہے تھے آپ رات کی تاریکی میں ہجرت کے ارادہ سے اپنے گھر سے باہر نکل رہے تھے۔مکہ کے لوگ ضرور شبہ کرتے ہوں گے کہ ان کے ارادہ کی خبر محمد رسول اللہ صلی علیہ کم کو بھی مل چکی ہو گی مگر پھر بھی جب آپ ان کے سامنے سے گزرے تو انہوں نے یہی سمجھا کہ یہ کوئی اور شخص ہے اور بجائے آپ پر حملہ کرنے کے سمٹ سمٹا کر