اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 48
اصحاب بدر جلد 2 48 حضرت ابو بکر صدیق نبی اکرم صلی یکم جو عشق و وفا کے ان لمحات کو بغور دیکھ رہے تھے فرمانے لگے کہ: اے آسماء! اللہ تمہارے اس نطاق کے بدلے میں تمہیں جنت میں دو نطاق عطا کرے گا۔یعنی کہ کمر بند جو کپڑا کمر پہ باندھا ہوا تھا۔آنحضرت صلی علیہ یکم کے اس ارشاد کی وجہ سے بعد میں حضرت اسامہ کو ذات النطاقین کہا جانے لگا۔135 ہجرت کے وقت کی دعائیں ہجرت کے اس سفر میں نبی کریم صلی املی کم زیر لب اس آیت کا ورد فرماتے ہوئے چلے جارہے تھے: وَقُلْ رَّبِّ اَدْخِلْنِي مُدْخَلَ صِدْقٍ وَ أَخْرِجْنِي مُخْرَجَ صِدْقٍ وَ اجْعَلْ لِي مِنْ لَدُنْكَ سُلْطَنَّا نَصِيرًا ( بن اسرائیل:81) اور تو کہہ اے میرے رب ! مجھے اس طرح داخل کر کہ میر اداخل ہونا سچائی کے ساتھ ہو اور مجھے اس طرح نکال کہ میر انکلنا سچائی کے ساتھ ہو اور اپنی جناب سے میرے لیے طاقتور مدد گار عطا کر۔136 اور ایسا ہی اس دعا کا بھی ذکر ملتا ہے کہ الْحَمْدُ لِلهِ الَّذِي خَلَقَنِي وَلَمْ أَكُ شَيْئًا، اللهُمَّ أَعِلَى عَلى هَوْلِ الدُّنْيَا، وَبَوَائِقِ الدَّهْرِ، وَمَصَائِبِ اللَّيَالِي وَالْأَيَّامِ۔اللَّهُمَّ اصْحَبنِي فِي سَفَرِى وَاخْلُفْنِي فِي أَهْلِي، وَبَارِككَ لِي فِيمَا رَزَقْتَنِي وَلَكَ فَذَلِّلْنِي وَعَلَى صالح خَلْقِي فَقَوْمُنِي، وَإِلَى رَبِّي فَحَنِي، وَإِلَى النَّاسِ فَلَا تَكِلْنِي أَنْتَ رَبُّ الْمُسْتَضْعَفِينَ وَأَنْتَ رَبِّي أَعُوذُ يَوَجْهِكَ الْكَرِيمِ الَّذِي أَشْرَقَتْ لَهُ السَّمَوَاتُ وَالْأَرْضُ وَكُشِفَتْ بِهِ الظُّلُمَاتُ وَصَلُحَ عَلَيْهِ أَمْرُ الأولين والآخَرِينَ، أَنْ تَحِلَّ بِي غَضَبُكَ أَوْ يَنْزِلَ عَلَى سُخَطَكَ أَعُوذُ بِكَ مِنْ زَوَالِ نِعْمَتِكَ، وَفُجَاءَةِ نِقْمَتِكَ وَتَحَولِ عَاقِبَتِكَ وَجَمِيعِ سُخَطِكَ لَكَ الْعُتُبِى خَيْرَ مَا اسْتَطَعْتُ، وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِكَ۔تمام تعریفیں اللہ کے لیے جس نے مجھے پیدا کیا اور میں کچھ بھی نہیں تھا۔اے اللہ ! دنیا کے خوف پر اور زمانے کے مصائب پر اور رات اور دن کے مصائب پر میری مدد فرما۔اے اللہ ! میرے سفر میں تو میر اساتھی ہو جا اور میرے اہل میں میرا قائمقام ہو جا اور جو تُو نے مجھے دیا ہے اس میں میرے لیے برکت رکھ دے اور مجھے اپنے ہی تابع کر دے اور میری عمدہ تخلیق پر مجھے مضبوط کر دے اور میرے رب کا مجھے محبوب بنادے اور مجھے لوگوں کے سپرد نہ کرنا۔تو کمزوروں کا رب ہے اور تو میرا بھی رب ہے۔تیر اوجہ کریم جس سے آسمان و زمین روشن ہوئے اور جس سے اندھیرے چھٹ گئے اور جس سے پہلوں اور بعد میں آنے والوں کا معاملہ درست ہو گیا میں اس کی پناہ میں آتا ہوں اس بات سے کہ مجھ پر تیر اغضب اترے یا مجھ پر تیری ناراضگی نازل ہو۔میں تیری پناہ میں آتا ہوں تیری نعمت کے زائل ہونے سے اور تیرے انتقام کے اچانک آنے سے اور میرے بارے میں تیرے آخری فیصلے کے بدل جانے سے۔شرح زرقانی میں تحولِ عَاقِبَتِكَ کی جگہ تَحَوُّلِ عَافِيَتِكَ کے الفاظ بھی آئے ہیں۔اس کا مطلب ہے کہ تیری عطا کردہ عافیت کے جاتے رہنے سے اور تیری ہر قسم کی ناراضگی سے۔تیری ہی رضامندی