اصحابِ بدرؓ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 45 of 557

اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 45

اصحاب بدر جلد 2 45 122 حضرت ابو بکر صدیق کی گردنوں میں طوق ڈال دیے ہیں اور وہ اب ٹھوڑیوں تک پہنچے ہوئے ہیں۔اس لیے وہ سر اونچا اٹھائے ہوئے ہیں اور ہم نے ان کے سامنے بھی ایک روک بنادی ہے اور ان کے پیچھے بھی ایک روک بنادی ہے اور ان پر پردہ ڈال دیا ہے اس لیے وہ دیکھ نہیں سکتے۔آپ ان کے سروں پر خاک ڈالتے ہوئے ان کے سامنے سے نکل گئے لیکن خدا کی قدرت کہ آپ مصلی الم جاتے ہوئے کسی کو بھی دکھائی نہ دیے بلکہ وہ لوگ گاہے گاہے اندر جھانک کر دیکھ لیتے اور اطمینان کر لیتے کہ محمد صلی اللی کم اپنے بستر پر ہی ہیں۔اس واقعہ کا ذکر سیرت خاتم النبیین میں حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے یوں کیا ہے کہ رات کا تاریک وقت تھا اور ظالم قریش جو مختلف قبائل سے تعلق رکھتے تھے اپنے خونی ارادے کے ساتھ آپ کے مکان کے گرد جمع ہو کر آپ کے مکان کا محاصرہ کر چکے تھے اور انتظار تھا کہ صبح ہویا آپ اپنے گھر سے نکلیں تو آپ پر ایک دم حملہ کر کے قتل کر دیا جاوے۔آنحضرت صلی علیکم کے پاس بعض کفار کی امانتیں پڑی تھیں کیونکہ باوجود شدید مخالفت کے اکثر لوگ اپنی امانتیں آپ کے صدق و امانت کی وجہ سے آپ کے پاس رکھوا دیا کرتے تھے۔لہذا آپ نے حضرت علی گو ان امانتوں کا حساب کتاب سمجھا دیا اور تاکید کی کہ بغیر امانتیں واپس کئے مکہ سے نہ نکلنا۔اس کے بعد آپ نے ان سے فرمایا کہ تم میرے بستر پر لیٹ جاؤ اور تسلی دی کہ انہیں خدا کے فضل سے کوئی گزند نہیں پہنچے گا۔وہ لیٹ گئے اور آپ نے اپنی چادر جو سرخ رنگ کی تھی ان کے اوپر اڑھادی۔اس کے بعد آپ اللہ کا نام لے کر اپنے گھر سے نکلے۔اس وقت محاصرین آپ کے دروازے کے سامنے موجود تھے مگر چونکہ انہیں یہ خیال نہیں تھا کہ آنحضرت صلی علیم اس قدر اول شب میں ہی گھر سے نکل آئیں گے وہ اس وقت اس قدر غفلت میں تھے کہ آپ ان کے سروں پر خاک ڈالتے ہوئے ان کے درمیان سے نکل گئے اور ان کو خبر تک نہ ہوئی۔وہ قریش جو آپ کے گھر کا محاصرہ کئے ہوئے تھے وہ تھوڑی تھوڑی دیر کے بعد آپ کے گھر کے اندر جھانک کر دیکھتے تھے تو حضرت علی کو آپ کی جگہ پر لیٹا دیکھ کر مطمئن ہو جاتے تھے لیکن صبح ہوئی تو انہیں علم ہوا کہ ان کا شکار ان کے ہاتھ سے نکل گیا ہے۔اس پر وہ ادھر ادھر بھاگے۔مکہ کی گلیوں میں صحابہ کے مکانات پر تلاش کیا مگر کچھ پتہ نہ چلا۔اس غصہ میں انہوں نے حضرت علی کو پکڑا اور کچھ مارا پیٹا۔۔۔۔۔۔۔۔123" حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ ”جب آنحضرت صلی میزکم ایک ناگہانی طور پر اپنے قدیمی شہر کو چھوڑنے لگے اور مخالفین نے مار ڈالنے کی نیت سے چاروں طرف سے اس مبارک گھر کو گھیر لیا تب ایک جانی عزیز جس کا وجو د محبت اور ایمان سے خمیر کیا گیا تھا جانبازی کے طور پر آنحضرت صلی علیم کے بستر پر باشارہ نبوی اس غرض سے مونہہ چھپا کر لیٹ رہا کہ تا مخالفوں کے جاسوس آنحضرت صلی ا و م کے نکل جانے کی کچھ تفتیش نہ کریں اور اسی کو رسول اللہ صلی العلم سمجھ کر قتل کرنے کے لئے ٹھہرے رہیں۔