اصحابِ بدرؓ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 44 of 557

اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 44

صحاب بدر جلد 2 44 حضرت ابو بکر صدیق چرائے گا اور رات کے وقت وہ دودھ دینے والی بکریوں کا تازہ دودھ فراہم کرے گا اور پھر مکہ سے نکلنے کا وقت طے کرنے کے بعد آنحضرت صلی ای کم جلد ہی حضرت ابو بکر کے گھر سے واپس اپنے گھر تشریف لے آئے۔121 ان کے سروں پر خاک ڈالتے ہوئے ان کے سامنے سے نکل گئے یہاں آکر آپ نے حضرت علی کو اپنے ہجرت کے پروگرام سے آگاہ کرتے ہوئے ان کے سپرد ایک جاں نثارانہ کام یہ کیا کہ آج رات وہ حضور صلی علیکم کے بستر مبارک پر وہی سبز یا ایک روایت کے مطابق سرخ رنگ کی حضر می چادر اوڑھ کر سوئیں گے جو نبی اکرم صلی کم خود لے کر سویا کرتے تھے اور اپنے اس جاں شار فدائی خادم کو خدائی تائید و نصرت کی یقین دہانی کراتے ہوئے آپ صلی الیکم نے کہا کہ فکر نہ کرنا اور بڑے آرام سے میرے بستر پر سوئے رہنا دشمن تمہارا بال بھی بیکا نہیں کر سکتا۔نیز صادق و امین رسول خدا صلی علیہ کی کو چونکہ اہالیانِ مکہ کی دی ہوئی امانتوں کا بھی فکر اور ذمہ داری کا احساس تھا اس لیے فرمایا کہ وہ لوگوں کو امانتیں واپس کرتے ہوئے میرے پیچھے آجائیں۔یعنی حضرت علی ہو فرمایا کہ امانتیں واپس کر کے پھر مدینہ آجانا۔چنانچہ حضرت علی تین دن مکہ میں ٹھہرے یہاں تک کہ آپ نے رسول اللہ صلی علیکم کی طرف سے لوگوں کو امانتیں واپس کر دیں۔جب آپ اس سے فارغ ہو گئے تو آپ بھی رسول کریم صلی ا ل ا م سے قبا میں جاملے۔اس کے بعد آنحضرت ملا ہم اپنے گھر سے باہر تشریف لائے جبکہ کفار مکہ کے چنیدہ بہادر جن کی آنکھوں میں گویا خون اترا ہو ا تھا وہ تلواریں ہاتھ میں لیے عین نبی کریم صلی علیکم کے گھر کے باہر چاق و چوبند پہرہ دے رہے تھے کہ کب رات گہری ہو اور ہم دھاوا بول کر ایک ہی وار میں رسول اکرم صلی علیہم کا گو یا کام تمام کر دیں اور ابو جہل جو کہ گویا ان کا سرغنہ تھا بڑے تکبر اور تمسخر سے یہ کہہ رہا تھا کہ محمد یہ کہتا ہے کہ اگر تم اس کے معاملہ میں اس کی پیروی کرو گے تو تم عرب و عجم کے بادشاہ بن جاؤ گے پھر تم اپنی موت کے بعد اٹھائے جاؤ گے تو تمہارے لیے اردن کے باغات کی مانند باغات بنائے جائیں گے اور اگر تم ایسا نہیں کرو گے تو تمہارے درمیان قتل و غارت گری ہو گی۔آپ صلی ام باہر نکلے اور فرمایا ہاں ایسے ہی میں کہتا ہوں اور سورۃ یسین کی یہ آیات پڑھتے ہوئے که ليسَ وَالْقُرْآنِ الْحَكِيمِ إِنَّكَ لَمِنَ الْمُرْسَلِينَ عَلَى صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ تَنْزِيلَ الْعَزِيزِ الرَّحِيمِ لِتُنْذِرَ قَوْمًا مَّا انْذِرَ أَبَاؤُهُمْ فَهُمْ غُفِلُونَ لَقَدْ حَقَّ الْقَوْلُ عَلَى أَكْثَرِهِمْ فَهُمْ لَا يُؤْمِنُونَ إِنَّا جَعَلْنَا فِي أَعْنَاقِهِمْ اغلَا فَهِيَ إِلَى الْأَذْقَانِ فَهُمْ مُقْمَحُونَ وَجَعَلْنَا مِنْ بَيْنِ أَيْدِيهِمْ سَدًّا وَ مِنْ خَلْفِهِمْ سَدًّا فَأَغْشَيْنَهُمْ لا يُبْصِرُونَ (يس: 102) لیس۔یا سید ! اس کا ترجمہ یہ ہے کہ اے سردار ! حکمتوں والے قرآن کی ف ہے تو یقینا مر سلین میں سے ہے۔صراط مستقیم پر گامزن ہے۔یہ کامل غلبہ والے اور بار بار رحم کرنے والے کی تنزیل ہے تاکہ تو ایک ایسی قوم کو ڈرائے جن کے آباؤ اجداد نہیں ڈرائے گئے۔پس وہ غافل پڑے ہیں۔یقیناً ان میں سے اکثر پر قول صادق آگیا ہے۔پس وہ ایمان نہیں لائیں گے۔یقینا ہم نے ان