اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 36
اصحاب بدر جلد 2 36 100❝ حضرت ابو بکر صدیق ایرانی لشکر ایسا بھا گا کہ ایران کی سرحدوں سے ورے اس کا قدم کہیں بھی نہ ٹھہرا اور پھر دوبارہ رومی حکومت کے افریقی اور ایشیائی مفتوحہ ممالک اس کے قبضہ میں آگئے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ ”جب ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے ابو جہل سے شرط لگائی اور قرآن شریف کی وہ پیشگوئی مدار شرط رکھی کہ الم غُلِبَتِ الرُّومُ فِي أَدْنَى الْأَرْضِ وَهُمْ مِنْ بَعْدِ غَلَبِهِمْ سَيَغْلِبُونَ فِي بِضْعِ سِنِينَ (الروم :52) اور تین برس کا عرصہ ٹھہرایا تو آپ پیشگوئی کی صورت کو دیکھ کر فی الفور دوراندیشی کو کام میں لائے اور شرط کی کسی قدر ترمیم کرنے کے لئے ابو بکر صدیق کو حکم فرمایا اور فرمایا کہ بضع سنتین کا لفظ مجمل ہے اور اکثر نو برس تک اطلاق پاتا ہے۔101❝ مختلف قبائل میں تبلیغ کے لئے آنحضرت علی ایم کے ساتھ ساتھ ہونا پھر نبی کریم صلی لی نام کا قبائل کے سامنے اپنے آپ کو پیش کرنا یعنی اپنا دعویٰ پیش کرنا اور حضرت ابو بکر کا آپ کے ساتھ ساتھ ہونا۔جب اللہ تعالیٰ نے اپنے دین کو غالب کرنے اور اپنے نبی کو عزت و اکرام عطا فرمانے اور اپنے وعدے کو پورا کرنے کا ارادہ کیا تو رسول اللہ صلی اللی کم حج کے ایام میں باہر نکلے اور انصار کے قبائل اوس اور خزرج سے ملاقات کی۔آپ نے حج کے ایام میں اپنے آپ کو پیش کیا جیسا کہ آپ ہر سال حج کے ایام میں کیا کرتے تھے۔چنانچہ ایک روایت میں مذکور ہے۔حضرت علی بن ابو طالب بیان کرتے ہیں کہ جب اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی صلی المیہ ہم کو حکم دیا کہ وہ اپنے آپ کو قبائل عرب کے سامنے پیش کریں تو میں اور حضرت ابو بکر آنحضرت صلی علیکم کے ہمراہ منی کی طرف نکلے یہاں تک کہ ہم عربوں کی ایک مجلس کے پاس پہنچے۔حضرت ابو بکر آگے بڑھے اور آپ حسب و نسب میں مہارت رکھتے تھے۔انہوں نے پوچھا آپ لوگ کس قوم سے ہو ؟ انہوں نے کہا کہ ربیعہ قبیلہ سے۔حضرت ابو بکر نے پوچھار بیعہ کی کس شاخ سے ؟ انہوں نے کہاؤ ہل سے۔پھر حضرت علی کہتے ہیں کہ ہم لوگ اوس اور خزرج کی مجلس میں گئے اور یہی وہ لوگ ہیں جنہیں رسول اللہ صلی علیم نے انصار کا نام دیا تھا کیونکہ انہوں نے آپ کو پناہ اور مدد دینا قبول کیا تھا۔حضرت علی کہتے ہیں کہ ہم نہیں اٹھے یہاں تک کہ ان لوگوں نے نبی کریم صلی علیم کی بیعت کرلی۔102 الله ایک اور روایت میں ہے۔حضرت علی نے بیان فرمایا کہ جب اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی صلی علیم کو حکم دیا کہ وہ اپنے آپ کو عرب قبائل کے سامنے پیش کریں تو آپ صلی اللہ کی اس غرض سے نکلے۔میں اور حضرت ابو بکر بھی آپ کے ہمراہ تھے۔ہم ایک مجلس میں پہنچے جس میں سکینت اور وقار تھا۔وہ لوگ بلند مقدرت والے اور ذی وجاہت تھے۔حضرت ابو بکر نے ان سے پوچھا تم لوگ کس قبیلے سے تعلق رکھتے ہو ؟ انہوں نے کہا ہم بنو شیبان بن ثعلبہ سے ہیں۔حضرت ابو بکرؓ نے رسول کریم صلی المی کم کی طرف متوجہ