اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 37
اصحاب بدر جلد 2 37 37 b حضرت ابو بکر صدیق ہو کر کہا۔میرے ماں باپ آپ پر قربان ان کی قوم میں اس سے بڑھ کر کوئی اور معزز نہیں۔ان لوگوں میں مفروق بن عمرو، مثلی بن حارثہ ، هاني بن قبیصہ اور نُعمان بن شریک تھے۔رسول اللہ صلی اللہ ہم نے ان کے سامنے یہ آیت پڑھی کہ قُلْ تَعَالَوْا اتْلُ مَا حَرَّمَ رَبِّكُمْ عَلَيْكُمْ أَلَّا تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا وَ بِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا وَلَا تَقْتُلُوا أَوْلَادَكُمْ مِنْ إِمْلَاقٍ نَحْنُ نَرْزُقُكُمْ وَإِيَّاهُمْ وَلَا تَقْرَبُوا الْفَوَاحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا ۚ وَمَا بَطَنَ وَلَا تَقْتُلُوا النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللهُ إِلَّا بِالْحَقِّ ذَلِكُمْ وَضَكُم بِهِ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُونَ (الانعام:152) اس کا ترجمہ یہ ہے کہ تو کہہ دے۔آؤ میں پڑھ کر سناؤں جو تمہارے رب نے تم پر حرام کر دیا یعنی یہ کہ کسی چیز کو اس کا شریک نہ ٹھہر او اور لازم کر دیا ہے کہ والدین کے ساتھ احسان سے پیش آؤ اور رزق کی تنگی کے خوف سے اپنی اولاد کو قتل نہ کرو۔ہم ہی تمہیں رزق دیتے ہیں اور ان کو بھی اور تم بے حیائیوں کے جوان میں ظاہر ہوں اور جو اندر چھپی ہوئی ہوں دونوں کے قریب نہ پھٹکو اور کسی ایسی جان کو جسے اللہ نے حرمت بخشی ہو قتل نہ کرو مگر حق کے ساتھ۔یہی ہے جس کی وہ تمہیں تاکید کرتا ہے تاکہ تم عقل سے کام لو۔اس پر مفروق نے کہا کہ یہ کلام زمین والوں کا نہیں۔اگر یہ ان کا کلام ہو تا تو ہم ضرور جان لیتے۔پھر رسول اللہ صلی العلیم نے یہ آیت تلاوت فرمائی اِنَّ اللهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ وَايْتَائِي ذِي الْقُرْبَى وَيَنْهى عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ وَالْبَغْيِ يَعِظُكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ (النحل: 91) یعنی یقینا اللہ عدل کا اور احسان کا اور اقرباء پر کی جانے والی عطا کی طرح عطا کا حکم دیتا ہے اور بے حیائی اور نا پسندیدہ باتوں اور بغاوت سے منع کرتا ہے۔وہ تمہیں نصیحت کرتا ہے تاکہ تم عبرت حاصل کرو۔یہ کلام سننے کے بعد مفروق نے کہا۔اے قریشی بھائی ! اللہ کی قسم! آپ نے اعلیٰ اخلاق اور اچھے کاموں کی طرف بلایا ہے۔یقیناً ایسی قوم سخت جھوٹی ہے جس نے آپ کی تکذیب کی اور آپ صلی نیلم کے خلاف ایک دوسرے کی مدد کی۔مفتی نے کہا ہم نے آپ کی بات سنی اے میرے قریشی بھائی ! آپ نے ن گفتگو کی اور جو باتیں آپ نے کہیں انہوں نے مجھے متعجب کیا لیکن ہمارا کسری کے ساتھ ایک معاہدہ ہے کہ نہ ہم کوئی نیا کام کریں گے اور نہ کوئی نیا کام کرنے والے کو پناہ دیں گے اور غالباً جس چیز کی طرف آپ ہمیں بلا رہے ہیں یہ ان میں سے ہے جسے بادشاہ بھی نا پسند کرتے ہیں۔اگر آپ چاہتے ہیں کہ عرب کے قرب وجوار کے لوگوں کے مقابلہ میں ہم آپ کی مدد کریں اور آپ کی حفاظت کریں تو ہم ایسا کریں گے۔اس پر رسول اللہ صلی علی یکم نے ان سے فرمایا: تمہارے جواب میں کوئی برائی نہیں کیونکہ تم لوگوں نے وضاحت کے ساتھ سچائی کا اظہار کر دیا۔اللہ کے دین پر وہی قائم رہ سکتا ہے جس کو اللہ نے ہر طرف سے گھیرے میں لیا ہو۔پھر رسول اللہ صلی الم نے حضرت ابو بکر کیا ہاتھ پکڑا اور اٹھ کر روانہ ہو گئے۔103 ایک روایت ہے کہ آپ صلی تعلیم نے یہ فرمایا کہ تمہارا کیا خیال ہے اگر تھوڑی سی مدت میں اللہ تعالیٰ تمہیں ان یعنی کسری کی سرزمین اور ملک کا وارث بنادے اور ان کی خواتین تمہارے قبضہ میں آجائیں تو کیا تم اللہ کی تسبیح و تقدیس کرو گے ؟ یہ سن کر اس نے کہا کہ الہی !ہم تیار ہیں یعنی قسم کھائی۔خدا کی قدرت بہترین