اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 35
صحاب بدر جلد 2 35 حضرت ابو بکر صدیق کتاب ہونے اور حضرت مسیح ناصری سے نسبت رکھنے کے بت پرست اور مجوسی اقوام کی نسبت مسلمانوں کے بہت قریب تھے۔ایسے حالات میں آنحضرت صلی اللہ ہم نے اللہ تعالیٰ سے علم پا کر پیشگوئی فرمائی کہ اس وقت روم فارس سے مغلوب ہو رہا ہے مگر چند سال کے عرصے میں وہ فارس پر غالب آجائے گا اور اس دن مومن خوش ہوں گے۔یہ پیشگوئی سن کر مسلمانوں نے جن میں حضرت ابو بکر کا نام خاص طور پر مذکور ہوا ہے مکہ میں عام اعلان کرناشروع کیا کہ ہمارے خدا نے یہ بتایا ہے کہ عنقریب روم فارس پر غالب آئے گا۔قریش نے جواب دیا کہ اگر یہ پیشگوئی سچی ہے تو آؤ شرط لگالو۔چونکہ اس وقت تک اسلام میں شرط لگانا ممنوع نہیں ہوا تھا۔حضرت ابو بکر نے اسے منظور کر لیا اور رؤسائے قریش اور حضرت ابو بکر کے در میان چند اونٹوں کی ہار جیت پر شرط قرار پا گئی اور چھ سال کی معیاد مقرر ہو گئی مگر جب آنحضرت علی علی کم کو اس کی اطلاع پہنچی تو آپ نے فرمایا۔چھ سال کی میعاد مقرر کرنا غلطی ہے۔اللہ تعالیٰ نے تو میعاد کے متعلق بِضع سنین کے الفاظ فرمائے ہیں جو عربی محاورہ کی رو سے تین سے نے کے نوتک کے لیے بولے جاتے ہیں۔یہ اس زمانے کی بات ہے جب کہ آپ صلی علیہ کی مکہ میں ہی مقیم تھے اور ہجرت نہیں ہوئی تھی۔اس کے بعد مقررہ میعاد کے اندر اندر ہی جنگ نے اچانک پلٹا کھایا اور روم نے فارس کو زیر کر کے تھوڑے عرصہ میں ہی اپنا تمام علاقہ واپس چھین لیا۔یہ ہجرت کے بعد کی بات ہے۔99 جس کے بعد پھر رومیوں کی فتح ہو گئی تھی۔اس بارہ میں حضرت مصلح موعود بیان فرماتے ہیں کہ ” آپ ابھی مکہ میں ہی تھے کہ عرب میں یہ خبر مشہور ہوئی کہ ایرانیوں نے رومیوں کو شکست دے دی ہے اس پر مکہ والے بہت خوش ہوئے کہ ہم بھی مشرک ہیں اور ایرانی بھی مشرک۔ایرانیوں کا رومیوں کو شکست دے دینا ایک نیک شگون ہے اور اس کے معنی یہ ہیں کہ مکہ والے بھی محمد رسول اللہ صلی للی کم پر غالب آجائیں گے۔“یہ شگون انہوں نے نکالا مگر محمد رسول اللہ صلی علیکم کو خدا نے بتایا کہ الم غُلِبَتِ الرُّومُ فِي أَدْنَى الْأَرْضِ وَهُمْ مِنْ بَعْدِ غَلَبِهِمْ سَيَغْلِبُونَ فِي بضع سنین رومی حکومت کو شام کے علاقہ میں بے شک شکست ہوئی ہے لیکن اس شکست کو تم قطعی نہ سمجھو۔مغلوب ہونے کے بعد رومی پھر 9 سال کے اندر غالب آجائیں گے۔اس پیشگوئی کے شائع ہونے پر مکہ والوں نے بڑے بڑے قہقہے لگائے یہاں تک کہ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ سے بعض کفار نے سوسو اونٹ کی شرط باندھی کہ اگر اتنی شکست کھانے کے بعد بھی روم ترقی کر جائے تو ہم تمہیں سو اونٹ دیں گے اور اگر ایسا نہ ہوا تو تم ہمیں سو اونٹ دینا۔بظاہر اس پیشگوئی کے پورا ہونے کا امکان دور سے دور تر ہو تا چلا جارہا تھا۔شام کی شکست کے بعد رومی لشکر متواتر کئی شکستیں کھا کر پیچھے ہٹتا گیا یہاں تک کہ ایرانی فوجیں بحیرہ مار مورا (Marmara Sea)۔۔۔کے کناروں تک پہنچ گئیں۔قسطنطنیہ اپنی ایشیائی حکومتوں سے بالکل منقطع ہو گیا اور روم کی زبر دست حکومت ایک ریاست بن کر رہ گئی مگر خدا کا کلام پورا ہو نا تھا اور پورا ہوا۔انتہائی مایوسی کی حالت میں روم کے بادشاہ نے اپنے سپاہیوں سمیت آخری حملہ کے لئے قسطنطنیہ سے خروج کیا اور ایشیائی ساحل پر اتر کر ایرانیوں سے ایک فیصلہ کن جنگ کی طرح ڈالی۔رومی سپاہی باوجود تعداد اور سامان میں کم ہونے کے قرآن کریم کی پیشگوئی کے مطابق ایرانیوں پر غالب آئے۔