اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 461
محاب بدر جلد 2 461 حضرت ابو بکر صدیق پھر حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد اسلام کی کیا حالت تھی اور اس میں حضرت ابو بکر صدیق کے خصائل کا تذکرہ کرتے ہوئے مزید فرمایا: ” آپ نبی تو نہ تھے مگر آپ میں رسولوں کے قولی موجود تھے۔آپؐ کے اس صدق کی وجہ سے ہی چمن اسلام اپنی پوری رعنائیوں کی طرف لوٹ آیا اور تیروں کے صدمات کے بعد بارونق اور شاداب ہو گیا اور اس کے قسم قسم کے خوشنما پھول کھلے اور اس کی شاخیں گردو غبار سے صاف ہو گئیں۔جبکہ اس سے پہلے اس کی حالت ایسے مردے کی سی ہو گئی تھی جس پر رویا جا چکا ہو اور (اس کی حالت) قحط زدہ کی سی تھی اور مصیبت کے شکار کی سی اور ذبح کئے گئے ایسے جانور کی سی جس کے گوشت کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا گیا ہو ، ہو گئی تھی۔اور (اس کی حالت) قسما قسم کی مشقتوں کے مارے ہوئے اور شدید تپش والی دو پہر کے جلائے ہوئے کی طرح تھی۔پھر اللہ تعالیٰ نے اسے ان تمام مصائب سے نجات بخشی اور ان ساری آفات سے اسے رہائی دلائی اور عجیب در عجیب تائیدات سے اس کی مدد فرمائی یہاں تک کہ اسلام اپنی شکستگی اور خاک آلودگی کے بعد بادشاہوں کا امام اور گردنوں (عوام الناس) کا مالک بن گیا۔پس منافقوں کی زبانیں گنگ ہو گئیں اور مومنوں کے چہرے چمک اٹھے۔ہر شخص نے اپنے رب کی تعریف اور صدیق اکبر کا شکریہ ادا کیا۔1057<< پھر آپ فرماتے ہیں: حضرت ابو بکر صدیق نے اسلام کو ایک ایسی دیوار کی طرح پایا جو اشرار کے شر کے باعث گراہی چاہتی تھی۔تب اللہ نے آپ کے ہاتھوں اسے ایک ایسے مضبوط قلعہ کی طرح بنا دیا جس کی دیواریں لوہے کی ہوں اور جس میں غلاموں کی طرح فرمانبر دار فوج ہو۔پس غور کر کیا تو اس میں کوئی شک پاتا ہے؟ یا پھر اس کی مثال تو دوسرے گروہوں میں سے پیش کر سکتے ہو ؟ 1058 پھر آپ فرماتے ہیں کہ ”آپ رضی اللہ عنہ معرفتِ تامہ رکھنے والے عارف باللہ ، بڑے حلیم الطبع اور نہایت مہربان فطرت کے مالک تھے اور انکسار اور مسکینی کی وضع میں زندگی بسر کرتے تھے۔بہت ہی عفو و در گزر کرنے والے اور مجسم شفقت ورحمت تھے۔آپ اپنی پیشانی کے نور سے پہچانے جاتے تھے۔آپ کا حضرت اقدس محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم سے گہرا تعلق تھا اور آپ کی روح خیر الوریٰ (صلی اللہ علیہ وسلم) کی روح سے پیوست تھی اور جس نور نے آپ کے آقا و مقتدا محبوب خدا کو ڈھانپا تھا اسی نور نے آپ کو بھی ڈھانپا ہوا تھا اور آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم) کے نور کے لطیف سائے اور آپ کے عظیم فیوض کے نیچے چھپے ہوئے تھے اور فہم قرآن اور سید الرسل، فخر بنی نوع انسان کی محبت میں آپ تمام لوگوں سے ممتاز تھے۔اور جب آپ پر اخروی حیات اور الہی اسرار منکشف ہوئے تو آپ نے تمام دنیوی تعلقات توڑ دیئے اور جسمانی وابستگیوں کو پرے پھینک دیا اور آپ اپنے محبوب کے رنگ میں