اصحابِ بدرؓ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 460 of 557

اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 460

اصحاب بدر جلد 2 460 حضرت ابو بکر صدیق کے قریب جاہل اور بد کردار آدمی مل گئے اور فتنے بھڑک اٹھے اور مصائب بڑھ گئے اور آفات نے دور و نزدیک کا احاطہ کر لیا اور مومنوں پر ایک شدید زلزلہ طاری ہو گیا۔اس وقت تمام لوگ آزمائے گئے اور خوفناک اور حواس باختہ کرنے والے حالات نمودار ہو گئے اور مومن ایسے لاچار تھے کہ گویا ان کے دلوں میں آگ کے انگارے دہکائے گئے ہوں یا وہ چھری سے ذبح کر دیئے گئے ہوں۔کبھی تو وہ خیر البریہ (صلی اللہ علیہ وسلم) کی جدائی کی وجہ سے اور گاہے ان فتنوں کے باعث جو جلا کر بھسم کر دینے والی آگ کی صورت میں ظاہر ہوئے تھے روتے۔امن کا شائبہ تک نہ تھا۔فتنہ پرداز گند کے ڈھیر پر اگے ہوئے سبزے کی طرح چھا گئے تھے۔مومنوں کا خوف اور ان کی گھبر بہٹ بہت بڑھ گئی تھی اور دل دہشت اور بے چینی سے لبریز تھے۔ایسے ( نازک) وقت میں (حضرت) ابو بکر رضی اللہ عنہ حاکم وقت اور (حضرت) خاتم النبیین کے خلیفہ بنائے گئے۔منافقوں ، کافروں اور مرتدوں کے جن رویوں اور طور طریقوں کا آپ نے مشاہدہ کیا ان سے آپ ہم و غم میں ڈوب گئے۔آپ اس طرح روتے جیسے ساون کی جھڑی لگی ہو اور آپ کے آنسو چشمہ کرواں کی طرح بہنے لگتے اور آپ (رضی اللہ عنہ ) (اپنے) اللہ سے اسلام اور مسلمانوں کی خیر کی دعا مانگتے یہاں تک کہ اللہ کی نصرت آن پہنچی اور جھوٹے نبی قتل اور مرتد ہلاک کر دیئے گئے۔فتنے دُور کر دیئے گئے اور مصائب چھٹ گئے اور معاملے کا فیصلہ ہو گیا اور خلافت کا معاملہ مستحکم ہوا اور اللہ نے مومنوں کو آفت سے بچالیا اور ان کی خوف کی حالت کو امن میں بدل دیا اور ان کے لئے ان کے دین کو تمکنت بخشی اور ایک جہان کو حق پر قائم کر دیا اور مفسدوں کے چہرے کالے کر دیئے اور اپنا وعدہ پورا کیا اور اپنے بندے (حضرت ابو بکر صدیق کی نصرت فرمائی اور سر کش سر داروں اور بتوں کو تباہ و برباد کر دیا اور کفار کے دلوں میں ایسار عب ڈال دیا کہ وہ پسپا ہو گئے اور (آخر) انہوں نے رجوع کر کے توبہ کی اور یہی خدائے قہار کا وعدہ تھا اور وہ سب صادقوں سے بڑھ کر صادق ہے۔پس غور کر کہ کس طرح خلافت کا وعدہ اپنے پورے لوازمات اور علامات کے ساتھ (حضرت ابو بکر صدیق کی ذات میں پورا ہوا۔“ فرماتے ہیں: " غور کرو کہ آپ کے خلیفہ ہونے کے وقت مسلمانوں کی کیا حالت تھی۔اسلام مصائب کی وجہ سے آگ سے جلے ہوئے شخص کی طرح ( نازک حالت میں ) تھا۔پھر اللہ تعالیٰ نے اسلام کو اس کی طاقت لوٹا دی اور اسے گہرے کنویں سے نکالا اور جھوٹے مدعیان نبوت درد ناک عذاب سے مارے گئے اور مرتد چوپاؤں کی طرح ہلاک کئے گئے۔“ آپ فرماتے ہیں: ” اور اللہ نے مومنوں کو اس خوف سے جس میں وہ مردوں کی طرح تھے امن عطا فرمایا۔اس تکلیف کے رفع ہونے کے بعد مومن خوش ہوتے تھے اور (حضرت ابو بکر صدیق کو مبارکباد دیتے تھے اور رحبا کہتے ہوئے ان سے ملتے تھے وہ آپ کو ایک مبارک وجود اور نبیوں کی طرح تائید یافتہ سمجھتے تھے اور یہ سب کچھ (حضرت ابو بکر صدیق کے صدق اور گہرے یقین کی وجہ سے تھا۔1056