اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 462
صحاب بدر جلد 2 462 حضرت ابو بکر صدیق رنگین ہو گئے اور واحد مطلوب ہستی کی خاطر ہر مراد کو ترک کر دیا اور تمام جسمانی کدورتوں سے آپ کا نفس پاک ہو گیا۔اور سچے یگانہ خدا کے رنگ میں رنگین ہو گیا۔اور رب العالمین کی رضا میں گم ہو گیا اور جب کچی الہی محبت آپ کے تمام رگ و پے اور دل کی انتہائی گہرائیوں میں اور وجود کے ہر ذرہ میں جاگزین ہو گئی اور آپ کے افعال و اقوال میں اور برخاست و نشست میں اس کے انوار ظاہر ہو گئے تو آپ صدیق کے نام سے موسوم ہوئے اور آپ کو نہایت فراوانی سے تر و تازہ اور گہر اعلم ، تمام عطا کرنے والوں میں سے بہتر عطا کرنے والے خدا کی بارگاہ سے عطا کیا گیا۔صدق آپ کا ایک راسخ ملکہ اور طبعی خاصہ تھا۔اور اس صدق کے آثار و انوار آپ میں اور آپ کے ہر قول و فعل، حرکت و سکون اور حواس و انفاس میں ظاہر ہوئے۔آپ آسمانوں اور زمینوں کے رب کی طرف سے منعم علیہ گروہ میں شامل کئے گئے۔آپ کتاب نبوت کا ایک اجمالی نسخہ تھے اور آپ ارباب فضیلت اور جواں مردوں کے امام تھے اور نبیوں کی سرشت رکھنے والے چیدہ لوگوں میں سے تھے۔“ فرماتے ہیں: ”تو ہمارے اس قول کو کسی قسم کا مبالغہ تصور نہ کر اور نہ ہی اسے نرم رویے اور چشم پوشی کی قسم سے محمول کر اور نہ ہی اسے چشمہ محبت سے پھوٹنے والا سمجھ بلکہ یہ وہ حقیقت ہے جو بار گاہِ رب العزت سے مجھ پر ظاہر ہوئی اور آپ رضی اللہ عنہ کا مشرب رب الارباب پر توکل کرنا اور اسباب کی طرف کم توجہ کرنا تھا اور آپ تمام آداب میں ہمارے رسول اور آقا صلی اللہ علیہ وسلم کے بطور ظل کے تھے اور آپ کو حضرت خیر البریہ سے ایک ازلی مناسبت تھی۔اور یہی وجہ تھی کہ آپ کو حضور کے فیض سے پل بھر میں وہ کچھ حاصل ہو گیا جو دوسروں کو لمبے زمانوں اور دور دراز اقلیموں میں حاصل نہ ہو سکا۔تو جان لے کہ فیوض کسی شخص کی طرف صرف مناسبتوں کی وجہ سے ہی رخ کرتے ہیں اور تمام کائنات میں اسی طرح اللہ کی سنت جاری و ساری ہے۔پس جس شخص کو قتسام (ازل) نے اولیاء اور اصفیا کے ساتھ ذراسی بھی مناسبت عطانہ کی ہو تو یہی وہ محرومی ہے جسے حضرت کبریاء کی جناب میں شقاوت و بد بختی سے تعبیر کیا جاتا ہے۔اتم و اکمل خوش بخت وہی شخص ہے جس نے حبیب خدا کی عادات کا احاطہ کیا ہو یہاں تک کہ الفاظ، کلمات اور تمام طور طریقوں میں آپ سے مشابہت پیدا کر لی ہو۔بد بخت لوگ تو اس کمال کو سمجھ نہیں سکتے۔جس طرح ایک پیدائشی اندھار نگوں اور شکلوں کو دیکھ نہیں سکتا ایک بدبخت کے نصیب میں تو پر رعب اور پر ہیبت (خدا) کی تجلیات کے سوا کچھ نہیں ہو تا کیونکہ اس کی فطرت رحمت کے نشانات نہیں دیکھ سکتی۔اور جذب اور محبت کی خوشبو کو نہیں سونگھ سکتی اور یہ نہیں جانتی کہ خلوص، خیر خواہی، اُنس اور فراخی قلب کیا ہیں کیونکہ وہ (فطرت) تو ظلمات سے بھری پڑی ہے۔“ یعنی جو اندھا ہے۔” پھر اس میں برکات کے انوار اتریں تو کیسے؟ بلکہ بدبخت شخص کا نفس تو ایک تند و تیز آندھی کے تموج کے طرح موجیں مارتا ہے اور اس کے جذبات حق اور حقیقت دیکھنے سے اسے روکتے ہیں۔اس لئے وہ سعادت مندوں کی طرح معرفت میں راغب ہوتے ہوئے (حق) کی طرف نہیں آتا۔جبکہ صدیق کی تخلیق مبدء فیضان کی طرف متوجہ ہونے اور رسول رحمن صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف رخ