اصحابِ بدرؓ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 439 of 557

اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 439

اصحاب بدر جلد 2 439 حضرت ابو بکر صدیق جری اور بہادر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ساری زندگی میں ہم کبھی کسی گھبراہٹ یا تزلزل کو دیکھ نہیں سکتے اور اگر کوئی پریشانی کا موقع آیا بھی ہو تو خدائے قادر و توانا ان کے لیے ڈھارس بنتا رہا۔مصنف نے تو لکھا ہے کہ ابو بکر آپ کی ڈھارس بندھاتے تھے جبکہ اس کے بالکل الٹ ہم نے دیکھا ہے کہ اگر حضرت ابو بکر کی زندگی میں کسی پریشانی یا گھبراہٹ کا وقت آیا بھی تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ان کے لیے ڈھارس بنا کرتے تھے جیسا کہ ہجرت کے موقع پر جب حضرت ابو بکر سخت پریشان ہوئے اور گھبر ائے۔بے شک یہ گھبر اہٹ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ہی تھی لیکن حضرت ابو بکر کی اس گھبراہٹ کے موقع پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ان کی ڈھارس بنے۔جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابو بکر سے یہ کہا کہ لا تَحْزَنْ إِنَّ اللهَ مَعَنَا : :(40) کہ اے ابو بکر ! تم گھبراؤ نہیں۔اللہ ہمارے ساتھ ہے۔اور جیسا کہ ابھی پہلے بیان ہو چکا ہے کہ حضرت ابو بکر نے خود بیان فرمایا جب یہ گھبراہٹ تھی تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے تسلی دلائی۔پس یہ ایک واقعہ ہی آپ کے عزم، توکل اور اللہ تعالیٰ کے خاص نبی ہونے کی واضح دلیل ہے لیکن بہر حال یہ عقل کے اندھے اگر ایک بات سچ کہنے میں مجبور ہوتے ہیں تو کچھ نہ کچھ بیچ میں گند ملانے کی ضرور کوشش کرتے ہیں۔پھر ایک اور برطانوی مستشرق ہے ٹی ڈبلیو آرنلڈ (T۔W۔Armold) کہتا ہے کہ : وہ (ابوبکر) ایک دولت مند تاجر تھے۔اعلیٰ کردار اور اپنی ذہانت اور قابلیت کی بنا پر ان کے ہم وطن ان کی بہت عزت کرتے تھے۔اسلام قبول کرنے کے بعد انہوں نے اپنی دولت کا بڑا حصہ اُن مسلمان غلاموں کو خریدنے پر صرف کر دیا جنہیں کفار ان کے آقا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات پر ایمان لانے کے سبب اذیتیں دیتے تھے۔پھر سکاٹ لینڈ کا ایک مستشرق اور برطانوی ہندوستان میں شمال مغربی صوبوں کا لیفٹیننٹ گورنر سرولیم میور (Sir William Muit) ہے یہ لکھتا ہے کہ: حضرت ابو بکر کا عہد حکومت مختصر تھا لیکن محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اسلام ابو بکر سے زیادہ کسی اور کا ممنون نہیں۔یعنی محمد کے بعد ابو بکر سے زیادہ اسلام کی خدمت کسی اور نے نہیں کی۔حضرت ابو بکر کے اخلاق حسنہ کے بارے میں حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ : ”کیا یہ سچ نہیں کہ بڑے بڑے زبر دست بادشاہ ابو بکر اور عمر بلکہ ابوہریر کا نام لے کر بھی رضی۔1023 1024 اللہ عنہ کہہ اٹھتے رہے ہیں اور چاہتے رہے ہیں کہ کاش ان کی خدمت کا ہی ہمیں موقعہ ملتا۔پھر کون ہے جو کہہ سکے کہ ابو بکر اور عمر اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہم نے غربت کی زندگی بسر کر کے کچھ نقصان اٹھایا۔بے شک انہوں نے دنیاوی لحاظ سے اپنے اوپر ایک موت قبول کر لی۔لیکن وہ موت ان کی حیات ثابت ہوئی اور اب کوئی طاقت ان کو مار نہیں سکتی۔وہ قیامت تک زندہ رہیں گے۔1025