اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 440
اصحاب بدر جلد 2 440 حضرت ابو بکر صدیق پھر فرماتے ہیں کہ : ”ابو بکر کو اللہ تعالیٰ نے محض اس لئے ابو بکر نہیں بنایا تھا کہ وہ اتفاقی طور پر رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ میں پیدا ہو گئے تھے۔عمر کو اللہ تعالیٰ نے اس لئے عمر کا درجہ عطا نہیں کیا تھا کہ وہ اتفاقی طور پر رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ میں پید اہو گئے تھے۔عثمان اور علی کو محض اس لئے خدا تعالیٰ نے عثمان اور علی کا جو مرتبہ ہے وہ عطا نہیں کیا تھا کہ وہ اتفاقی طور پر رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی دامادی کے مقام پر پہنچ گئے تھے یا طلحہ اور زبیر کو محض اس لئے کہ وہ آپ کے خاندان یا آپ کی قوم میں سے تھے اور آپ کے زمانہ میں پیدا ہو گئے تھے عزتیں اور رتبے عطا نہیں کئے۔بلکہ یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے اپنی قربانیوں کو ایسے اعلیٰ مقام پر پہنچا دیا تھا کہ جس سے زیادہ انسان کے وہم و گمان میں بھی نہیں آتا۔1026 پس یہ قربانیاں ہیں جو انسان کو مقام دلاتی ہیں۔پھر حضرت مصلح موعودؓ ایک جگہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کی کتنی عزت ہمارے دلوں میں ہے مگر کیا کوئی کہہ سکتا ہے کہ یہ عزت اُن کی اولاد کی وجہ سے ہے ؟ ہم میں سے تو اکثر ایسے ہیں جو جانتے تک نہیں کہ حضرت ابو بکر کی نسل کہاں تک چلی اور ان کی نسل کے حالات ہی محفوظ نہیں ہیں۔آج بہت سے لوگ ایسے موجود ہیں جو اپنے آپ کو حضرت ابو بکر کی اولاد ظاہر کر کے اپنے آپ کو صدیقی کہتے ہیں۔لیکن اگر ان سے کوئی کہے کہ تم قسم کھاؤ کہ واقعی تم صدیقی ہو اور تمہارا سلسلہ نسب حضرت ابو بکر نیک پہنچتا ہے ؟ تو وہ ہر گز قسم نہیں کھا سکیں گے اور اگر وہ قسم کھا بھی جائیں تو ہم کہیں گے کہ یہ جھوٹ بول رہے ہیں اور بے ایمان ہیں۔اِس کی وجہ یہی ہے کہ حضرت ابو بکر کی نسل کے حالات اتنے محفوظ ہی نہیں ہیں کہ آج کوئی اپنے آپ کو صحیح طور پر ان کی طرف منسوب کر سکے۔پس ہم حضرت ابو بکر کی عزت اس لئے نہیں کرتے کہ ان کی نسل کا کام عالی شان ہے ، ہم حضرت عمرؓ کی عزت اس لئے نہیں کرتے کہ ان کی نسل کا کام نہایت اعلیٰ پایہ کا ہے، ہم حضرت عثمان کی عزت اس لئے نہیں کرتے کہ اُن کی نسل کا رہائے نمایاں کر رہی ہے اور ہم حضرت علی کو اس لئے نہیں یاد کرتے کہ ان کی نسل میں خاص خوبیاں ہیں۔( حضرت علی کا تو سلسلہ نسب بھی اب تک چل رہا ہے مگر ان کی عزت اس لئے نہیں کی جاتی کہ ان کی نسل اب تک قائم ہے) باقی بھی جتنے صحابہ تھے ان میں سے کوئی ایک بھی تو ایسا نہیں جسے اس کی نسل کی وجہ سے یاد کیا جاتا ہو۔پس حقیقت یہ ہے کہ ہم ان کو ان کی ذاتی قربانیوں کی وجہ سے یاد کرتے ہیں اور ان کی عزت کرتے ہیں۔پھر حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ حضرت ابو بکر کو دیکھ لو۔آپ مکہ کے ایک معمولی تاجر تھے اگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مبعوث نہ ہوتے اور مکہ کی تاریخ لکھی جاتی تو مؤرخ صرف اتنا ذکر کرتا کہ ابو بکر عرب کا ایک شریف اور دیانت دار تاجر تھا۔مگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی 1027"