اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 414
صحاب بدر جلد 2 414 حضرت ابو بکر صدیق چنانچہ ایک اور بیوی کے متعلق ذکر آتا ہے کہ جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے اس معاملے کا ذکر کیا تو اس نے کہا میں نے تو سوائے خیر کے عائشہ میں کوئی چیز نہیں دیکھی۔تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے اپنی دشمنی نکالنے کا امکان اگر کسی کی طرف سے ہو سکتا تھا تو ان کی سوتوں کی طرف سے مگر ان کا اس معاملے میں کوئی تعلق ثابت نہیں ہو تا۔اسی طرح مردوں کی عورتوں سے دشمنی کی کوئی وجہ نہیں ہوتی۔پس آپ پر الزام یارسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بغض کی وجہ سے لگایا گیا یا حضرت ابو بکڑ سے بغض کی وجہ سے ایسا کیا گیا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ و سلم کو جو مقام حاصل تھا وہ تو الزام لگانے والے کسی طرح چھین نہیں سکتے تھے۔انہیں جس بات کا خطرہ تھا وہ یہ تھا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد بھی وہ اپنی اغراض کو پورا کرنے سے محروم نہ رہ جائیں۔اور وہ دیکھ رہے تھے کہ آپ کے بعد خلیفہ ہونے کا اگر کوئی شخص اہل ہے تو وہ ابو بکر ہی ہے۔پس اس خطرہ کو بھانپتے ہوئے انہوں نے حضرت عائشہ پر الزام لگا دیا تا حضرت عائشہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نگاہ سے گر جائیں اور ان کے گر جانے کی وجہ سے حضرت ابو بکر کو مسلمانوں میں جو مقام حاصل ہے وہ بھی جاتا ر ہے اور مسلمان آپ سے بدظن ہو کر یعنی حضرت ابو بکر سے بد ظن ہو کر اس عقیدت کو ترک کر دیں جو انہیں آپ سے تھی اور اس طرح رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد حضرت ابو بکر کے خلیفہ ہونے کا دروازہ بالکل بند ہو جائے۔حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں جس طرح حضرت خلیفہ اول کی زندگی میں پیغامیوں کا گروہ مجھ پر اعتراض کرتا رہتا تھا اور مجھے بدنام کرنے کی کوشش کرتا رہتا تھا۔پس یہی وجہ تھی کہ خدا تعالیٰ نے حضرت عائشہ پر الزام لگنے کے واقعہ کے بعد خلافت کا بھی ذکر کیا۔حدیث میں صریح طور پر آتا ہے کہ صحابہ آپس میں باتیں کیا کرتے تھے اور کہا کرتے تھے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اگر کسی کا مقام ہے تو وہ ابو بکر کا ہی مقام ہے۔پھر حدیثوں میں آتا ہے کہ ایک دفعہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شخص آیا اور اس نے کہا یار سول اللہ ! آپ میری فلاں حاجت پوری کر دیں۔آپ نے فرمایا اس وقت نہیں، پھر آنا۔وہ بدوی تھا اور تہذیب و شائستگی کے اصول سے ناواقف تھا۔اس نے صاف کہہ دیا کہ آخر آپ انسان ہیں۔اگر میں پھر آؤں اور آپ اس وقت فوت ہو چکے ہوں تو میں کیا کروں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر میں دنیا میں نہ ہوا تو ابو بکرؓ کے پاس چلے جانا، وہ تمہاری حاجت پوری کر دے گا۔اسی طرح حدیثوں میں آتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دفعہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا۔اے عائشہ میں چاہتا تھا کہ ابو بکر کو اپنے بعد نامزد کر دوں مگر میں جانتا ہوں کہ اللہ اور مومن اس کے سوا اور کسی پر راضی نہیں ہوں گے اس لیے میں کچھ نہیں کہتا۔غرض صحابہ یہ قدرتی