اصحابِ بدرؓ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 415 of 557

اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 415

اصحاب بدر جلد 2 415 حضرت ابو بکر صدیق طور پر سمجھتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ان میں سے اگر کسی کا درجہ ہے تو ابو بکر کا اور وہی آپ کا خلیفہ بننے کے اہل ہیں۔نمی زندگی تو ایسی تھی کہ اس میں حکومت اور اس کے انتظام کا سوال ہی پیدا نہ ہو تا تھا لیکن مدینہ میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے تشریف لانے کے بعد حکومت قائم ہوگئی اور طبعاً منافقوں کے دلوں میں یہ سوال پیدا ہونے لگا کیونکہ آپ کی مدینہ میں تشریف لانے کی وجہ سے ان کی کئی امیدیں باطل ہو گئی تھیں۔عبد اللہ بن ابی بن سلول نے جب یہ دیکھا کہ اس کی بادشاہت کے تمام امکانات جاتے رہے ہیں تو اسے سخت غصہ آیا اور گو وہ بظاہر مسلمانوں میں مل گیا مگر ہمیشہ اسلام میں رخنے ڈالتا رہتا تھا۔اور چونکہ اب وہ اور کچھ نہیں کر سکتا تھا اس لیے اس کے دل میں اگر کوئی خواہش پیدا ہو سکتی تھی تو یہی کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہوں تو میں مدینہ کا بادشاہ بنوں لیکن مسلمانوں میں جو نہی بادشاہت قائم ہوئی اور ایک نیا نظام انہوں نے دیکھا تو انہوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مختلف سوالات کرنے شروع کر دیے کہ اسلامی حکومت کا کیا طریق ہے ؟ آپ کے بعد اسلام کا کیا حال ہو گا اور اس بارے میں مسلمانوں کو کیا کرنا چاہیے ؟ عبد اللہ بن ابی بن سلول نے جب یہ حالت دیکھی تو اسے خوف پید اہونے لگا کہ اب اسلام کی حکومت ایسے رنگ میں قائم ہوگی کہ اس میں اس کا کوئی حصہ نہ ہو گا۔یعنی عبد اللہ کا کوئی حصہ نہ ہو گا۔وہ ان حالات کو روکنا چاہتا تھا۔اور اس کے لیے جب اس نے غور کیا تو اسے نظر آیا کہ اگر اسلامی حکومت کو اسلامی اصول پر کوئی شخص قائم کر سکتا ہے تو وہ ابو بکر ہے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد مسلمانوں کی نظر اسی کی طرف اٹھتی یعنی حضرت ابو بکر کی طرف اور وہ اسے سب دوسروں سے معزز سمجھتے ہیں۔پس اس نے اپنی خیر اسی میں دیکھی کہ ان کو بد نام کر دیا جائے اور لوگوں کی نظروں سے حضرت ابو بکر کو گرا دیا جائے بلکہ خود رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نگاہ سے بھی گرا دیا جائے اور اس بد نیتی کے پورا کرنے کا موقع اسے حضرت عائشہ کے ایک جنگ میں پیچھے رہ جانے کے واقعہ سے مل گیا اور اس خبیث نے آپ پر گندا الزام لگا دیا جو قرآن کریم میں اشارہ بیان کیا گیا ہے اور حدیثوں میں اس کی تفصیل آتی ہے۔عبد اللہ بن ابی بن سلول کی اس میں یہ غرض تھی کہ اس طرح حضرت ابو بکر لوگوں کی نظروں میں بھی ذلیل ہو جائیں گے اور آپ کے تعلقات رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی خراب ہو جائیں گے اور اس نظام کے قائم ہونے میں رخنہ پڑ جائے گا جس کا قائم ہونا اسے لابدی نظر آتا تھا، نظر آرہا تھا کہ لازمی یہ ہو گا۔اور جس کے قائم ہونے سے اس کی امیدیں تباہ ہو جاتی تھیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد حکومت کے خواب صرف عبد اللہ بن ابی بن سلول ہی نہیں دیکھ رہا تھا بعض اور لوگ بھی اس مرض میں مبتلا تھے۔چونکہ منافق اپنی موت کو ہمیشہ دُور سمجھتا ہے اور وہ دوسروں کی موت کے متعلق اندازے لگاتا رہتا ہے اس لیے عبد اللہ بن ابی بن سلول بھی اپنی موت کو دُور سمجھتا تھا اور وہ نہیں جانتا تھا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں ہی وہ ایڑیاں رگڑ رگڑ کر مرے گا۔وہ یہ قیاس