اصحابِ بدرؓ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 413 of 557

اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 413

اصحاب بدر جلد 2 413 حضرت ابو بکر صدیق جانتے ہیں ؟ انہوں نے کہا ہاں۔پھر حضرت عائشہ نے کہا، اپنی والدہ سے پوچھا: اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ؟ انہوں نے کہاہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی جانتے ہیں۔حضرت عائشہ کہتی ہیں اس بات پر میرے آنسو جاری ہو گئے اور میں رونے لگی۔حضرت ابو بکر نے میری آواز سنی اور وہ گھر کے بالا خانے میں قرآن پڑھ رہے تھے۔وہ نیچے آئے اور میری ماں سے کہا اسے کیا ہوا ہے ؟ انہوں نے کہا اسے وہ بات پہنچی ہے جو اس کے متعلق کہی جارہی ہے تو حضرت ابو بکر کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے۔کہنے لگے اے میری پیاری بیٹی ! میں تمہیں قسم دیتا ہوں کہ تم اپنے گھر لوٹ جاؤ۔حضرت عائشہ کہتی ہیں کہ میں واپس آگئی۔972 واقعہ افک کے تذکرہ میں اس گھناؤنی سازش اور حضرت ابو بکر کے مناقب بیان کرتے ہوئے حضرت مصلح موعودؓ نے ایک جگہ بیان فرمایا کہ ہمیں غور کرنا چاہیے کہ وہ کون کون لوگ تھے جن کو بد نام کرنا منافقوں کے لیے یا ان کے سرداروں کے لیے فائدہ مند ہو سکتا تھا اور کن کن لوگوں سے اس ذریعہ سے منافق اپنی دشمنی نکال سکتے تھے۔حضور فرماتے ہیں کہ ایک ادنی تدبر سے معلوم ہو سکتا ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا پر الزام لگا کر دو شخصوں سے دشمنی نکالی جا سکتی تھی۔ایک رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور ایک حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ۔کیونکہ ایک کی وہ بیوی تھیں اور ایک کی بیٹی تھیں۔یہ دونوں وجو د ایسے تھے کہ ان کی بدنامی سیاسی یا اقتصادی لحاظ سے یادشمنیوں کے لحاظ سے بعض لوگوں کے لیے فائدہ بخش ہو سکتی تھی یا بعض لوگوں کی اغراض ان کو بد نام کرنے کے ساتھ وابستہ تھیں۔ورنہ خود حضرت عائشہ کی بدنامی سے کسی شخص کو کوئی دلچسپی نہیں ہو سکتی تھی۔زیادہ سے زیادہ آپ سے سوتوں کا تعلق ہو سکتا تھا۔یعنی دوسری بیویاں تھیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اور یہ خیال ہو سکتا تھا کہ شائد حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی سوتوں نے حضرت عائشہ کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نظروں سے گرانے اور اپنی نیک نامی چاہنے کے لیے اس معاملہ میں کوئی حصہ لیا ہو مگر تاریخ شاہد ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی سوتوں نے اس معاملہ میں کوئی حصہ نہیں لیا بلکہ حضرت عائشہ کا اپنا بیان ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں میں سے جس بیوی کو میں اپنا رقیب اور مد مقابل خیال کیا کرتی تھی وہ حضرت زینب تھیں۔ان کے علاوہ اور کسی بیوی کو میں اپنار قیب خیال نہیں کرتی تھی مگر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں زینب کے اس احسان کو کبھی نہیں بھول سکتی کہ جب مجھ پر الزام لگایا گیا تو سب سے زیادہ زور سے اگر کوئی اس الزام کا انکار کیا کرتی تھیں تو وہ حضرت زینب ہی تھیں۔پس حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے اگر کسی کو دشمنی ہو سکتی تھی تو وہ ان کی سوتوں کو ہی ہو سکتی تھی اور وہ اگر چاہتیں تو اس میں حصہ لے سکتی تھیں تا حضرت عائشہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نگاہ سے گر جائیں اور ان کی عزت بڑھ جائے۔مگر تاریخ سے ثابت ہے کہ انہوں نے اس معاملہ میں دخل ہی نہیں دیا یعنی دوسری بیویوں نے۔اور اگر کسی سے پوچھا گیا تو اس نے حضرت عائشہ کی تعریف ہی کی۔