اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 25
حاب بدر جلد 2 25 حضرت ابو بکر صدیق 77 مسجد حرام کے حطیم میں نماز پڑھ رہے تھے کہ عقبہ بن ابی معیط آیا اور اس نے کپڑا آپ کی گردن میں ڈال کر آپ کا گلا زور سے گھونٹا۔اتنے میں حضرت ابو بکر پہنچ گئے اور آکر انہوں نے عقبہ کا کندھا پکڑا اور اسے دھکیل کر نبی کریم صلی علیم سے ہٹا دیا اور کہا: اتقتُلُونَ رَجُلًا أَنْ يَقُولُ رَبِّيَ اللهُ (الو من :29) کہ کیا تم ایسے شخص کو مارتے ہو جو کہتا ہے کہ میرا رب اللہ ہے۔" ایک روایت میں آتا ہے کہ ایک دفعہ مشرکین نے رسول اللہ صلی الم سے کہا کہ کیا تم ہمارے معبودوں کے بارے میں یہ بات نہیں کہتے۔آپ صلی علیہ کم نے فرمایا کہ ہاں۔اس پر وہ آپ کے گرد جمع ہو گئے اور اس وقت کسی نے حضرت ابو بکر سے کہا کہ اپنے دوست کی خبر لو۔حضرت ابو بکر نکلے اور مسجد حرام پہنچے۔آپ نے رسول اللہ صلی علیہ کم کو اس حال میں پایا کہ لوگ آپ کے گرد اکٹھے ہیں۔حضرت ابو بکر نے کہا تم لوگوں کا براہو، اتقتُلُونَ رَجُلًا أَنْ يَقُولَ رَبِّيَ اللَّهُ وَقَدْ جَاءَكُمْ بِالْبَيِّنَتِ من ربكم (المومن (2) کیا تم محض اس لیے ایک شخص کو قتل کرو گے کہ وہ کہتا ہے کہ میرا رب اللہ ہے اور وہ تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے کھلے کھلے نشان لے کر آیا ہے۔اس پر انہوں نے آنحضرت علی ایم کو چھوڑ دیا اور حضرت ابو بکر کی طرف لیکے اور ان کو مارنے لگے۔حضرت ابو بکر کی بیٹی حضرت اسمام کہتی ہیں کہ آپ ہمارے پاس اس حالت میں آئے کہ آپ اپنے بالوں کو ہاتھ لگاتے تو وہ آپ کے ہاتھ میں آجاتے اور آپ کہتے جاتے تھے کہ تَبَارَكْتَ يَا ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ کہ اے بزرگی اور عزت والے اتو بابرکت ہے۔الله ایک روایت میں آتا ہے کہ ان لوگوں نے آنحضرت صلی علیکم کے سر مبارک اور آپ کی ریش مبارک کو اس زور سے کھینچا کہ آپ کے اکثر بال مبارک گر گئے۔اس پر حضرت ابو بکر آپ کو بچانے کے لیے کھڑے ہوئے اور وہ کہہ رہے تھے اَتَقَتُلُونَ رَجُلًا أَن يَقُولُ رَبِّيَ اللهُ (المومن: 29) کیا تم محض اس لیے ایک شخص کو قتل کرو گے کہ وہ کہتا ہے کہ میرا رب اللہ ہے۔کیا تم اس شخص کو اس وجہ سے قتل کرنا چاہتے ہو کہ وہ کہتا ہے کہ اللہ میرا رب ہے اور حضرت ابو بکر رو بھی رہے تھے۔اس پر رسول اللہ صلی علی یم نے فرمایا۔اے ابو بکر ! ان کو چھوڑ دو۔اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے میں ان کی طرف بھیجا گیا ہوں تاکہ میں قربان ہو جاؤں۔اس پر انہوں نے یعنی کافروں نے رسول اللہ صلی علیہ کم کو چھوڑ دیا۔حضرت علی ملکا فرمانا کہ سب سے زیادہ بہادر ابو بکر نہیں حضرت علی نے ایک مرتبہ لوگوں سے پوچھا کہ اے لوگو! لوگوں میں سب سے زیادہ بہادر کون ہے ؟ لوگوں نے جواب دیا کہ اے امیر المومنین آپ ہیں۔حضرت علیؓ نے فرمایا: جہاں تک میری بات ہے میرے ساتھ جس نے مبارزت کی، میں نے اس سے انصاف کیا یعنی اسے مار گرایا مگر سب سے بہادر ابو بکر ہیں۔ہم نے رسول اللہ صلی الی یکم کے لیے بدر کے دن خیمہ لگایا۔پھر ہم نے کہا کہ کون ہے جو رسول اللہ صلی علیم کے ساتھ رہے تا آپ صلی علیہ کمر تک کوئی مشرک نہ پہنچ پائے تو اللہ کی قسم! آپ صلی علیکم کے