اصحابِ بدرؓ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 24 of 557

اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 24

حاب بدر جلد 2 عثمانی میں فوت ہوئے۔24 حضرت ابو بکر صدیق تیسرے سعد بن ابی وقاص تھے جو اس وقت بالکل نوجوان تھے یعنی اس وقت ان کی عمر انیس سال کی تھی۔یہ بھی بنو زہرہ میں سے تھے اور نہایت دلیر اور بہادر تھے۔حضرت عمرؓ کے زمانے میں عراق انہی کے ہاتھ پر فتح ہوا۔امیر معاویہ کے زمانے میں فوت ہوئے۔چوتھے زبیر بن عوام تھے جو آنحضرت صلی ال نیم کے پھوپھی زاد بھائی تھے۔یعنی صفیہ بنت عبد المطلب کے صاحبزادے تھے اور بعد میں حضرت ابو بکر کے داماد ہوئے۔یہ بنو اسد میں سے تھے اور اسلام لانے کے وقت ان کی عمر صرف پندرہ سال کی تھی۔آنحضرت صلی ا لم نے زبیر کو غزوہ خندق کے موقعے پر ایک خاص خدمت سر انجام دینے کی وجہ سے حواری کا خطاب عطا فرمایا تھا۔زبیر حضرت علی کے عہد حکومت میں جنگ جمل کے بعد شہید ہوئے۔پانچویں طلحہ بن عبید اللہ لہ تھے حضرت ابو بکر کے خاندان یعنی قبیلہ بنوشیم میں سے تھے اور اس وقت بالکل نوجوان تھے۔طلحہ بھی اسلام کے خاص فدایان میں سے تھے۔حضرت علی کے عہد میں جنگ جمل میں شہید ہوئے۔یہ پانچوں اصحاب عشرہ مبشرہ میں سے ہیں یعنی ان دس صحابہ میں داخل ہیں جن کو آنحضرت صلی علیم نے اپنی زبان مبارک سے خاص طور پر جنت کی بشارت دی تھی اور جو صلی ایم کے نہایت مقرب صحابی اور مشیر شمار ہوتے تھے۔75 کفار مکہ کے مظالم کفارِ مکہ نے اسلام قبول کرنے والوں پر طرح طرح کے مظالم کیے، نہ صرف کمزور اور غلام مسلمان ہی ان کے ظلم و تشدد کا نشانہ بنے بلکہ خود آنحضرت ملا لیا اور حضرت ابو بکر بھی مشرکین مکہ کے مظالم سے محفوظ نہ رہے۔تاریخ اس بات پر شاہد ہے کہ انہیں بھی طرح طرح کے ظلم وستم کا نشانہ بنایا گیا یعنی آنحضرت صلی علی یم کو بھی اور حضرت ابو بکر کو بھی۔چنانچہ سیرت حلبیہ میں ایک واقعہ مذکور ہے کہ حضرت ابو بکر اور حضرت طلحہ نے جب اپنے اسلام کا اظہار کیا تو نوفل بن عدویہ نے ان دونوں کو پکڑ لیا۔یہ شخص قریش کا شیر کہلا تا تھا۔اس نے ان دونوں کو ایک ہی رسی سے باندھ دیا۔ان کے قبیلہ بنوتیم نے بھی ان دونوں کو نہ بچایا۔اسی وجہ سے حضرت ابو بکر اور حضرت طلحہ کو قریذین بھی کہتے ہیں یعنی دو ساتھ ملے ہوئے۔نوفل بن عدویہ کی قوت اور اس کے ظلم کی وجہ سے آنحضرت صلی اللہ کم فرمایا کرتے تھے کہ اللَّهُمَّ اكْفِنَا شَرَّ ابْنِ الْعَدَوِيَّةِ کہ اے اللہ ! ابن عدویہ کے شہر کے مقابلے میں ہمارے لیے تو کافی ہو جا۔76 آنحضرت صلى ال عالم کے ساتھ کفار کا بدترین سلوک اور حضرت ابو بکر کی جانثاری عروہ بن زبیر نے بیان کیا کہ میں نے حضرت عبد اللہ بن عمرو بن عاص سے پوچھا کہ وہ بد ترین سلوک مجھے بتائیں جو مشرکین نے نبی کریم صلی اللہ ہم سے کیا تھا۔انہوں نے کہا کہ ایک بار نبی کریم صلی الیکم سة