اصحابِ بدرؓ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 351 of 557

اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 351

حاب بدر جلد 2 351 حضرت ابو بکر صدیق امان ہے۔جب اللہ فیصلہ کرے گا اور ہم غالب آئیں گے تب وہاں پر بات ہو گی۔ہاں یہ بتاؤ کہ ہمارے ایک بہادر جس نے تمہارے سردار کے لڑکے کو قتل کیا تھا اس کے متعلق تم کو کچھ معلوم ہے یا نہیں؟ انہوں نے کہا کہ شاید آپ ان کے متعلق پوچھتے ہیں جو ننگے بدن تھے اور جنہوں نے ہمارے بہت سے آدمیوں کو مارا اور سردار کے بیٹے کو قتل کیا تھا۔خالد نے فرمایا ہاں وہی ہے۔انہوں نے کہا جس وقت وہ قید ہوئے اور ورُ دَان کے پاس پہنچے تو وژدان نے اس کو سو سواروں کی جمعیت میں حمص روانہ کیا تا کہ بادشاہ کے پاس پہنچایا جائے۔یہ سن کر خالد بہت خوش ہوئے اور حضرت رافع کو بلا کر فرمایا کہ تم راستوں کو اچھی طرح جانتے ہو۔اپنی مرضی کے جوانوں کو لے کر حمص پہنچنے سے پہلے حضرت ضرار کو چھڑاؤ اور اپنے رب کے ہاں اجر پاؤ۔حضرت رافع نے ایک سو جوانوں کو چن لیا اور ابھی جانے ہی والے تھے کہ حضرت خولہ نے منت سماجت کر کے حضرت خالد سے جانے کی اجازت حاصل کر لی اور سب لوگ حضرت رافع کی سر کردگی میں حضرت ضرار کی رہائی کے لیے حمص روانہ ہو گئے۔حضرت رافع تیزی سے چلے اور ایک مقام پر پہنچ کر آپ نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ خوش ہو جاؤ۔دشمن ابھی آگے نہیں گیا اور وہاں پر اپنے ایک دستے لو چھپا دیا۔یہ لوگ اسی حالت میں تھے کہ غبار اڑتا ہوا دکھائی دیا۔حضرت رافع نے مسلمانوں کو چوکنا بہنے کا حکم دیا۔مسلمان تیار بیٹھے تھے کہ رومی پہنچ گئے۔حضرت خیر اثر ان کی قید میں تھے اور در دبھرے لہجے میں اشعار پڑھ رہے تھے کہ ”اے مخبر ! میری قوم اور خولہ کو یہ خبر پہنچا دو کہ میں قیدی ہوں اور مشکوں میں بندھا ہوا ہوں۔شام کے کافر اور بے دین میرے گرد جمع ہیں اور تمام زرہ پہنے ہوئے ہیں۔اے دل ! تو غم و حسرت کی وجہ سے مرجا اور اسے جوانمردی کے آنسو! میرے رخسار پر بہ جا۔“ یہ شعر پڑھ رہے تھے ، ان کے معنی یہ ہیں۔حضرت خولہ نے زور سے آواز دی کہ تیری دعا قبول ہو گئی۔اللہ کی مدد آگئی۔میں تیری بہن خولہ ہوں اور یہ کہہ کر اس نے زور سے تکبیر بلند کر کے حملہ کر دیا اور دیگر مسلمان بھی تکبیر کہتے ہوئے حملہ آور ہوئے۔مسلمانوں نے اس دستے پر قابو پالیا۔سب کو قتل کر دیا گیا۔حضرت ضرار کو اللہ تعالیٰ نے رہائی دلائی اور مالِ غنیمت مسلمانوں کو مل گیا۔حضرت خولہ نے اپنے ہاتھوں سے بھائی کی رسیاں کھول دیں اور سلام کیا۔حضرت ضر اڑ نے اپنی بہن کو شاباش دی اور خوش آمدید کہا۔ایک لمبا نیزہ ہاتھ میں لیا اور ایک گھوڑے پر سوار ہوئے۔خدا کا شکر ادا کیا۔یہاں یہ خوشی ہوئی اور وہاں دمشق میں حضرت خالد نے سخت حملہ کر کے وزدَان کو شکست فاش دی۔وہ لوگ بھاگ گئے اور مسلمانوں نے ان کا تعاقب کیا۔وہاں حضرت ضرار اور دیگر مسلمانوں سے ملاقات ہوئی۔فتح کی خبر حضرت ابو عبیدہ کو بھیج دی۔اب مسلمانوں نے یقین کر لیا کہ دمشق فتح ہونے والا ہے۔دوسری طرف اسلامی لشکر دمشق میں مقیم تھا اور قلعہ کا محاصرہ جاری تھا کہ بصری سے حضرت 806