اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 350
محاب بدر جلد 2 350 حضرت ابو بکر صدیق شخص کے اوپر لباس پہن رکھا تھا۔پورا بدن اور منہ چھپا ہوا تھا اور فوج کے آگے آگے تھا۔حضرت خالد نے تمنا کی کہ کاش! مجھے معلوم ہو جائے کہ یہ شہسوار کون ہے۔واللہ ! یہ نہایت دلیر اور بہادر معلوم ہوتا ہے۔سب لوگ اس کے پیچھے پیچھے جارہے تھے۔لشکر اسلام جب کفار کے قریب پہنچا تو لو گوں نے اس شہسوار کو رومیوں پر ایسے حملہ کرتے دیکھا جس طرح باز چڑیوں پر جھپٹتا ہے۔اس کا ایک حملہ تھا جس نے دشمن کے لشکر میں تہلکہ ڈال دیا اور مقتولین کے ڈھیر لگا دیے اور بڑھتے بڑھتے دشمن کے لشکر کے درمیان میں پہنچ گیا۔وہ چونکہ اپنی جان کو ہلاکت میں ڈال چکا تھا اس لیے دوبارہ پلٹا اور کافروں کے لشکر کو چیرتا ہوا اندر گھستا چلا گیا۔جو سامنے آیا اس کو ریزہ ریزہ کر کے رکھ دیا۔کچھ لوگوں کا خیال تھا کہ یہ شخص حضرت خالد ہی ہو سکتے ہیں۔رافع نے حیرانگی سے خالد سے پوچھا کہ یہ شخص کون ہے؟ حضرت خالد نے فرمایا: مجھے معلوم نہیں۔میں خود حیران ہوں کہ یہ کون ہے۔حضرت خالد لشکر کے آگے کھڑے تھے کہ وہی سوار دوبارہ رومیوں کے لشکر سے نکلا۔رومیوں کا کوئی بھی سپاہی اس کے مقابل نہیں آرہا تھا اور یہ تنہا کئی آدمیوں سے مقابلہ کرتے ہوئے رومیوں کے کے نہیں آرہا تھا ئی میں درمیان لڑ رہا تھا۔اسی دوران حضرت خالد نے حملہ کر کے اسے کفار کے گھیرے سے نکالا اور یہ شخص لشکر اسلام میں پہنچ گیا۔حضرت خالد نے اسے کہا: تو نے اپنے غصہ کو اللہ کے دشمنوں پر نکالا ہے۔بتاؤ تم کون ہو ؟ اس سوار نے کچھ نہ بتایا اور پھر جنگ کے لیے تیار ہو گیا۔حضرت خالد نے فرمایا اللہ کے بندے ! تو نے مجھے اور تمام مسلمانوں کو بے چینی میں ڈال دیا ہے۔تو اس قدر بے پروا ہے۔آخر تو کون ہے! حضرت خالد کے اصرار پر اس نے جواب دیا کہ میں نے نافرمانی کی وجہ سے اعراض نہیں کیا، یہ نہیں کہ میں نافرمان ہوں اس لیے تمہیں جواب نہیں دے رہا بلکہ مجھے شرم آتی ہے کیونکہ میں مرد نہیں ہوں، ایک عورت ہوں۔عورتیں بھی اس بہادری کا نمونہ دکھاتی تھیں۔مجھے میرے دردِ دل نے اس میدان میں اتارا ہے۔خالد نے پوچھا کہ کون سی عورت ؟ اس عورت نے عرض کیا کہ ضرار کی بہن خولہ بنت ازور ہوں۔بھائی کی گرفتاری کا پتہ لگا تو میں نے وہی کیا جو آپ نے دیکھا۔حضرت خالد نے یہ سن کر کہا کہ ہم سب کو متفقہ حملہ کرنا چاہیے۔اللہ سے امید ہے کہ وہ ضرار کو قید سے رہائی دلا دے گا۔حضرت خولہ نے کہا کہ میں بھی حملہ میں پیش پیش رہوں گی۔پھر خالد نے بھر پور حملہ کیا۔رومیوں کے پیرا کھڑ گئے اور رومیوں کا لشکر تتر بتر ہو گیا۔حضرت رافع نے شجاعت کے جوہر دکھائے۔مسلمان ایک بار پھر بھر پور حملے کے لیے تیار ہوئے تھے کہ اچانک کفار کے لشکر سے کچھ سوار اس طرف تیزی سے امان مانگتے ہوئے آگئے۔حضرت خالد نے فرمایا ان کو امان دے دو اور فرمایا میرے پاس لے آؤ۔پھر خالد نے ان سے پوچھا کہ تم لوگ کون ہو۔انہوں نے کہا کہ ہم روم کی فوج کے لوگ ہیں اور حمص کے رہنے والے ہیں اور ضلح چاہتے ہیں۔حضرت خالد نے فرمایا کہ صلح تو حمص پہنچ کر ہو گی۔یہاں پر قبل از وقت ہم صلح نہیں کر سکتے البتہ تم کو