اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 352
حاب بدر جلد 2 352 حضرت ابو بکر صدیق 807 عباد بن سعید حضرت خالد کے پاس آئے اور اطلاع دی کہ رومیوں کا نوے ہزار کا لشکر بمقام اجنادین جمع ہوا ہے۔حضرت خالد نے حضرت ابو عبیدہ سے مشورہ کیا تو انہوں نے کہا کہ ہمارا لشکر ملک شام میں متفرق مقامات میں منتشر ہے۔لہذا ان تمام کو خط لکھ دو کہ وہ ہمیں اجنادین میں آملیں اور ہم بھی اب قلعہ دمشق کا محاصرہ ترک کر کے اجنادین کی جانب کوچ کریں گے۔هر قل کو وردان کی شکست کی خبر پہنچ چکی تھی نیز اس کے بیٹے کے قتل ہونے کا مفصل حال معلوم ہو چکا تھا۔لہذا ہر قل نے اس کو خوب ڈانٹ ڈپٹ کرتے ہوئے لکھا کہ مجھے خبر ملی ہے کہ ننگے بھوکے عربوں نے تجھے شکست دے دی ہے اور تیرے بیٹے کو قتل کیا ہے۔نہ مسیح نے اس پر رحم کیا اور نہ تم پر۔اگر تیری بہادری اور شمشیر زنی کا چرچا نہ ہوتا تو میں تجھے قتل کر دیتا۔خیر آب جو ہوا سو ہوا میں نے اجنادین کی طرف نوے ہزار کی فوج روانہ کی ہے تجھے اس کا سر دار مقرر کرتا ہوں۔808 حضرت خالد نے دمشق کا محاصرہ ختم کر کے اجنادین کی طرف لشکر کو روانہ ہونے کا حکم دیا۔حکم ملتے ہی مسلمانوں نے فوراً خیمے اکھیڑ کر باقی مال اسباب اونٹوں پر لادنا شروع کیا۔مالِ غنیمت کے اونٹوں کو اور مال و اسباب کے اونٹوں کو عورتوں اور بچوں کے ساتھ لشکر کے پیچھے کی جانب رکھا اور باقی سواروں کو لشکر کے آگے رکھا۔حضرت خالد بن ولید نے کہا کہ میری رائے یہ ہے کہ میں عورتوں اور بچوں کے قافلہ کے ساتھ لشکر کے پیچھے رہوں، حضرت ابو عبیدہ کو کہا، اور آپ لشکر کے آگے رہیں۔حضرت ابو عبیدہ نے فرمایا کہ ممکن ہے کہ وز دان اپنا لشکر لے کر اجنادین سے دمشق کی طرف روانہ ہو اہو اور اس سے آمنا سامنا ہو جائے۔اگر تم لشکر کے آگے رہو گے تو تم ان کو روک سکو گے اور مقابلہ کر سکو گے۔لہذا تم آگے رہو اور میں پیچھے رہتا ہوں۔حضرت خالد نے کہا آپ کی رائے مناسب ہے۔میں آپ کی رائے اور تجویز کے خلاف نہیں کروں گا۔جب اسلامی لشکر دمشق کا محاصرہ ترک کر کے روانہ ہوا تو لشکر کو کوچ کرتے دیکھ کر اہل دمشق خوشی سے اچھلنے کودنے لگے اور تالیاں بجا کر اپنی خوشی کا اظہار کرنے لگے۔اسلامی لشکر کے کوچ کے متعلق اہل دمشق نے مختلف آرا ظاہر کیں۔کسی نے کہا کہ اجنادین میں ہمارے عظیم لشکر کے جمع ہونے کی خبر سن کر مسلمان ملک شام میں اپنے دوسرے لشکر کے پاس جمع ہونے گئے ہیں۔کسی نے کہا کہ محاصرہ سے تنگ آکر کسی اور مقام پر لشکر کشی کرنے جا رہے ہیں اور بعض نے تو یہاں تک کہا کہ ملک حجاز کی طرف بھاگ کر جارہے ہیں ، واپس جارہے ہیں۔809 اہل دمشق جتنے بھی لوگ تھے وہ ایک شخص کے پاس جمع ہو گئے جس کا نام بولص تھا۔اور وہ اس سے قبل کسی بھی جنگ میں صحابہ کے سامنے نہیں آیا تھا۔یہ شخص ھر قل کا نہایت معتمد اور اعلیٰ درجہ کا تیر انداز تھا۔اہل دمشق نے اس کو امیر بنایا اور ہر قسم کا لالچ دے کر جنگ کے لیے آمادہ کیا۔نیز انہوں نے اس بات کی قسمیں کھائیں کہ وہ میدانِ جنگ چھوڑ کر نہیں بھاگیں گے اور جو بھی ان میں سے میدان چھوڑے گا تو آپ کو اختیار ہو گا کہ اسے اپنے ہاتھ سے قتل کر دیں۔یہ عہد و پیمان جب مکمل ہو گیا اور