اصحابِ بدرؓ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 199 of 557

اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 199

اصحاب بدر جلد 2 199 حضرت ابو بکر صدیق شدید جنگ ہوئی۔اُم زمل اونٹ پر سوار اشتعال انگیز تقریروں سے برابر فوج کو جوش دلا رہی تھی۔مرتدین بھی بڑی بہادری سے جان توڑ کر لڑ رہے تھے۔امیر زمل کے اونٹ کے گردسو اونٹ اور تھے جن پر بڑے بڑے بہادر سوار تھے اور بڑی پامردی سے اتم زمل کی حفاظت کر رہے تھے۔مسلمان شہسواروں نے اہم زمل کے پاس پہنچنے کی سر توڑ کوشش کی لیکن اس کے محافظوں نے ہر بار انہیں پیچھے ہٹا دیا۔پورے سو آدمیوں کو قتل کرنے کے بعد مسلمان آخر کار امیر زمل کے اونٹ کے قریب پہنچے۔وہاں پہنچتے ہی انہوں نے اونٹ کی کونچیں کاٹ ڈالیں اور اتم زمل کو قتل کر دیا۔اس کے ساتھیوں نے جب اس کے اونٹ کو گرتے اور اُسے قتل ہوتے دیکھا تو اُن کی ہمت نے جواب دے دیا اور بد حواس ہو کر بے تحاشا میدان جنگ سے بھاگنے لگے۔اس طرح اس فتنہ کی آگ ٹھنڈی ہو گئی اور جزیرہ نما عرب کے شمال مشرقی حصہ میں ارتداد اور بغاوت کا خاتمہ ہو گیا۔494 حضرت خالد نے حضرت ابو بکر کو اس فتح کی بشارت بھیجی۔15 حضرت خالد بن ولید کی مالک بن نویرہ کی طرف پیش قدمی 495 حضرت خالد بن ولید کی بطاح کے علاقہ کی جانب، مالک بن نویرہ کی طرف پیش قدمی کی تفصیل یوں بیان ہوئی ہے۔بطاح بنو اسد کے علاقے میں ایک چشمہ کا نام ہے۔مالک بن نویرہ کا تعلق بنو تمیم کی ایک شاخ بنویر بوع سے تھا۔اس نے 19 ہجری میں اپنی قوم کے ساتھ مدینہ آکر اسلام قبول کیا۔مالک بن نویرہ اپنی قوم کے سرداروں میں سے ایک تھا۔عرب کے مشہور بہادر اور شہسواروں میں اس کا شمار ہوتا تھا۔آنحضرت صلی للی کم نے اس کو اپنے قبیلہ کی زکوۃ کے اموال وصول کرنے اور جمع کرنے کی ڈیوٹی سپر د کرتے ہوئے عامل زکوۃ کے عہدے پر مقرر کیا تھا لیکن جب آنحضرت صلی کم کی وفات ہوئی اور عرب میں ارتداد اور بغاوت کی لہر اٹھی تو مالک بن نویرہ بھی مرتد ہونے والوں میں سے ایک تھا۔جب رسول اللہ صلی یم کی وفات کی خبر اس کو پہنچی تو اس نے خوشی اور مسرت کا جشن منایا۔اس کے گھر کی عورتوں نے مہندی لگائی، ڈھول بجائے اور خوب فرحت و شادمانی کا اظہار کیا اور اپنے قبیلے کے ان مسلمانوں کو قتل کیا جو زکوۃ کی فرضیت کے قائل ہونے کے ساتھ ساتھ زکوۃ کی رقم کو مسلمانوں کے مرکز یعنی مدینہ میں بھجوانے کے بھی قائل تھے۔پس یہ بھی بات یاد رکھنے والی ہے کہ ہر ایک شخص جس کو سزا دی گئی یا جس کے خلاف سختی کے اقدام کیے گئے اس نے مسلمانوں کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی تھی صرف یہی نہیں کہ مرتد ہو گئے تھے۔بہر حال اس ضمن میں مزید ہے کہ اس نے ایک طرف تو زکوۃ دینے سے انکار کیا اور زکوۃ کے جمع شدہ اموال اپنی قوم کے لوگوں کو واپس کر دیے اور دوسری طرف نبوت کا جھوٹا دعویٰ کرنے والی باغیہ سیجاخ بنت حارث کے ساتھ شامل ہو گیا جو کہ ایک بہت بڑا لشکر لے کر مدینہ پر حملہ کرنے کے لیے آئی 496