اصحابِ بدرؓ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 200 of 557

اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 200

اصحاب بدر جلد 2 200 حضرت ابو بکر صدیق سجاح بنت حارث کی سر کوبی سجان کا تعارف یہ ہے کہ سجاح بنت حارث اس کا نام تھا۔ام یاد رکنیت تھی۔عرب کی ایک کاہنہ تھی اور ان چند مدعیانِ نبوت اور باغی قبائلی سرداروں میں سے تھی جو عرب میں ارتداد سے تھوڑی مدت پہلے یا اس کے دوران نمودار ہوئے تھے۔سجاح قبیلہ بنو تمیم سے تعلق رکھتی تھی اور ماں کی جانب سے اس کا نسب قبیلہ بنو تغلب سے جاملتا تھا جو اکثر مسیحی تھے۔سجان خود بھی مسیحی تھی اور اپنے مسیحی قبیلہ اور خاندان کی بنا پر مسیحیت کی اچھی خاصی عالم عورت تھی۔یہ عراق سے مریدوں کے ساتھ آئی تھی اور مدینہ پر حملہ کا ارادہ رکھتی تھی۔بعض مورخین کا کہنا ہے کہ سجاح ایرانیوں کی سازش کے تحت عرب میں داخل ہوئی تھی تا کہ حالات کو دیکھ کر ایرانی حکومت کے زوال پذیر اقتدار کو تھوڑا سنبھالا دیا جاسکے۔بہر حال سجاح ان عوامل سے متاثر ہو کر جزیرہ عرب میں داخل ہوئی۔یہ طبعی امر تھا کہ وہ سب سے پہلے اپنی قوم بنو تمیم میں پہنچی۔ایک گروہ زکوۃ ادا کرنے اور خلیفہ رسول اللہ کی اطاعت کرنے پر آمادہ تھا لیکن اس قبیلہ کا دوسرا فریق اس کی مخالفت کر رہا تھا۔ایک تیسرا فریق بھی تھا جس کی سمجھ میں نہ آتا تھا کہ کیا کرے اور کیا نہ کرے۔بہر حال اس اختلاف نے اتنی شدت اختیار کی کہ بنو تمیم نے آپس ہی میں لڑنا اور جدال اور قتال شروع کر دیا۔اسی اثنا میں ان قبائل نے سجاخ کے آنے کی خبر سنی اور انہیں یہ بھی معلوم ہوا کہ سجاح مدینہ پہنچ کر ابو بکر کی فوجوں سے جنگ کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔پھر تو اختلاف نے مزید وسعت اختیار کر لی۔سبانخ اس ارادے سے بڑھی چلی آرہی تھی کہ وہ اپنے عظیم الشان لشکر کے ہمراہ اچانک بنو تمیم میں پہنچ جائے گی اور اپنی نبوت کا اعلان کر کے انہیں اپنے آپ پر ایمان لانے کی دعوت دے گی۔سارا قبیلہ بالا تفاق اس کے ساتھ ہو جائے گا اور عیینہ کی طرح بنو تمیم بھی اس کے متعلق یہ کہنا شروع کر دیں گے کہ بنویز بوع کی نبیه قریش کے نبی سے بہتر ہے کیونکہ محمد صلی اہلی کی وفات پاگئے ہیں اور سجاح زندہ ہے۔اس کے بعد وہ بنو تمیم کو ہمراہ لے کر مدینہ کی طرف کوچ کرے گی، یہ اس کا پلان تھا، اور ابو بکر کے لشکر سے مقابلہ کے بعد فتح یاب ہو کر مدینہ پر قابض ہو جائے گی۔بہر حال سجاح اور مالک بن نویرہ کا آپس میں رابطہ بھی ہو ا۔سنجاح اپنے لشکر کے ہمراہ جب بنویر بوع کی حدود پر پہنچ گئی تو وہاں ٹھہر گئی اور قبیلہ کے سردار مالک بن نویرہ کو بلا کر مصالحت کرنے اور مدینہ پر حملہ کرنے کی غرض سے اپنے ساتھ چلنے کی دعوت دی۔مالک نے صلح کی دعوت تو قبول کر لی لیکن اس نے اسے مدینہ پر چڑھائی کے ارادے سے باز رہنے کا مشورہ دیا اور کہا کہ مدینہ پہنچ کر ابو بکر کی فوجوں کا مقابلہ کرنے سے بہتر یہ ہے کہ پہلے اپنے قبیلہ کے مخالف عصر کا صفایا کر دیا جائے۔سجاخ کو بھی یہ بات پسند آئی اور اس نے کہا کہ جو تمہاری مرضی ہے۔میں تو بنویر بوع کی ایک عورت ہوں جو تم کہو گے وہی کروں گی۔سجاخ نے مالک کے علاوہ بنو تمیم کے دوسرے سرداروں کو بھی مصالحت کی دعوت دی لیکن وکیع کے سوانسی نے یہ دعوت قبول نہیں کی۔اس پر سجاح نے مالک، وسیع اور اپنے لشکر کے ہمراہ دوسرے سر داروں پر دھاوا بول دیا۔گھمسان کی جنگ ہوئی جس میں جانبین کی کثیر تعداد، آدمی قتل ہوئے اور ایک ہی قبیلے