اصحابِ بدرؓ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 4 of 557

اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 4

حاب بدر جلد 2 4 حضرت ابو بکر صدیق رکھا یہاں تک کہ جب لوگوں کا باہر آنا جانا تھم گیا اور لوگ پر سکون ہو گئے تو ہم آپ کو لے کر نکلے۔آپ میرے سہارے سے چل رہے تھے یہاں تک کہ آپ رسول اللہ صلی علی یم کے پاس پہنچ گئے تو حضرت ابو بکر پر شدید رقت طاری ہو گئی۔آنحضرت صلی علیہ ہم نے جب حضرت ابو بکر کی یہ حالت دیکھی تو آنحضور صلی علی کرم آپ کو بوسہ دینے کے لیے حضرت ابو بکر پر جھکے اور مسلمان بھی آپ پر جھکے۔پھر حضرت ابو بکر نے عرض کیا یا رسول اللہ ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں۔مجھے کوئی تکلیف نہیں سوائے اس کے جو لوگوں نے میرے منہ پر چوٹیں لگائی ہیں اور یہ میری والدہ اپنے بیٹے سے اچھا سلوک کرنے والی ہیں۔یہ مختصر سی باتیں کیں۔ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کے طفیل ان کو آگ سے بچالے۔حضرت ابو بکر نے اپنی والدہ کے بارے میں کہا کہ ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کے طفیل ان کو آگ سے بچالے یعنی ایمان لے آئیں۔اس پر رسول اللہ صلی علیم نے آپ کی والدہ کے لیے دعا کی اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دی جس پر انہوں نے اسلام قبول کر لیا۔اس طرح حضرت ابو بکر کی والدہ نے شروع میں ہی اسلام قبول کر لیا تھا۔حضرت ابو بکر کی پیدائش کے بارے میں جو روایات ہیں ان میں اصابہ جو صحابہ کی سوانح پر ایک مستند کتاب ہے اس کے مطابق حضرت ابو بکر صدیق عام الفیل کے دو سال چھ ماہ بعد پید اہوئے۔10 9 تاریخ طبری اور طبقات الکبریٰ میں لکھا ہے کہ : لقب عتیق کی وجہ تسمیہ الله آپ عام الفیل کے تین سال کے بعد پیدا ہوئے۔11 اسی طرح حضرت ابو بکر" کے لقب ہیں۔دو لقب مشہور ہیں جو بیان کیے جاتے ہیں۔ایک عقیق اور ایک صدیق۔عقیق کی وجہ تسمیہ کیا ہے؟ اس بارے میں لکھا ہے۔حضرت عائشہ نے بیان فرمایا کہ حضرت ابو بکر رسول اللہ صلی علیکم کے پاس آئے تو آپ نے فرمایا۔آنْتَ عَنِيْقُ اللهِ مِنَ النَّارِ کہ تم اللہ کی طرف سے آگ سے آزاد کر دہ ہو۔پس اس دن سے آپ کو عتیق کا لقب دیا گیا۔12 بعض مؤرخین لقب کے بجائے حضرت ابو بکر کا نام عتیق بیان کرتے ہیں۔وہ کہتے ہیں یہ لقب نہیں بلکہ آپ کا نام تھا لیکن یہ درست نہیں ہے۔چنانچہ علامہ جلال الدین سیوطی نے تاریخ الخلفاء میں امام نودی کے حوالے سے لکھا ہے کہ حضرت ابو بکر کا نام عبد اللہ تھا اور یہی زیادہ مشہور اور درست ہے اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ آپؐ کا نام عتیق تھا لیکن درست وہی ہے جس پر اکثر علماء متفق ہیں کہ عقیق آپ کا لقب تھا نہ کہ نام۔13 تھانہ سیرت ابن ہشام میں لقب عتیق کی وجہ یہ بیان کی گئی ہے کہ آپ کے چہرے کی خوبصورتی کی وجہ سے اور آپ کے حسن و جمال کی وجہ سے آپ کو عتیق کہا جاتا تھا۔14 سیرت ابن ہشام کی شرح میں عقیق لقب کی درج ذیل وجوہات بیان کی گئی ہیں۔عتیق کا مطلب ہے