اصحابِ بدرؓ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 3 of 557

اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 3

صحاب بدر جلد 2 3 حضرت ابو بکر صدیق حضرت ابو بکر اور مسلمانوں کو مارنے کے لیے ٹوٹ پڑے اور انہیں بُری طرح مارا پیٹا۔حضرت ابو بکر ھو پیروں تلے روندا گیا اور انہیں خوب مارا پیٹا گیا۔عُتبہ بن ربیعہ حضرت ابو بکر کو ان جوتوں سے مار رہا تھا جس پر دوہر اچمڑا لگا ہو ا تھا۔اس نے ان جوتوں سے حضرت ابو بکر کے چہرے پر اتنامارا کہ منہ سوج جانے کی وجہ سے آپ کے چہرے پر ناک کی بھی پہچان نہیں ہو پا رہی تھی۔پھر بنو تیم کے لوگ بھاگتے ہوئے آئے اور مشرکین کو حضرت ابو بکر سے دور کیا۔بنو تیم کے لوگوں نے آپ کو ایک کپڑے میں ڈال کر اٹھایا اور انہیں ان کے گھر میں لے گئے اور انہیں حضرت ابو بکر کی موت میں کوئی شک نہیں تھا۔اس حد تک مارا تھا۔اس کے بعد بنو تیم کے لوگ واپس آئے اور مسجد میں، خانہ کعبہ میں داخل ہوئے اور کہا خدا کی قسم! اگر ابو بکر فوت ہو گئے تو ہم ضرور عُتبہ کو قتل کر دیں گے ، جس نے زیادہ مارا تھا۔حضرت ابو بکر کے عشق رسول صلی الہ یکم کا اعلیٰ مقام پھر وہ لوگ حضرت ابو بکر کے پاس واپس آئے اور آپ کے والد ابو قحافہ اور بنو تیم کے لوگ آپ سے بات کرنے کی کوشش کرنے لگے مگر آپ بیہوشی کی وجہ سے کوئی جواب نہ دیتے تھے یہاں تک کہ دن کے آخری حصہ میں آپ بولے اور سب سے پہلے یہ پوچھا کہ رسول اللہ صلی علیکم کا کیا حال ہے؟ مگر لوگوں نے ان کی بات کا جواب نہ دیا مگر آپ بار بار یہی سوال دہراتے رہے۔اس پر آپ کی والدہ نے کہا۔خدا کی قسم ! مجھے تمہارے ساتھی کے متعلق کچھ معلوم نہیں۔حضرت ابو بکڑ نے اپنی والدہ سے کہا کہ آپ حضرت عمر کی بہن ام جمیل بنت خطاب کے پاس جائیں۔ام جمیل پہلے ہی مسلمان ہو چکی تھیں لیکن اپنے اسلام کو چھپایا کرتی تھیں۔آپ ان سے آنحضرت صلی یہ کمر کا حال دریافت کریں۔چنانچہ حضرت ابو بکر کی والدہ ام جمیل کے پاس گئیں اور ان سے کہا کہ ابو بکر ، محمد بن عبد اللہ صلی علیکم کے بارے میں پوچھتے ہیں تو انہوں نے جواب دیا: میں محمد کو نہیں جانتی اور نہ ہی ابو بکر کو۔پھر ام جمیل نے حضرت ابو بکر کی والدہ سے کہا کہ کیا آپ چاہتی ہیں کہ میں آپ کے ساتھ چلوں ؟ انہوں نے کہاہاں۔پھر وہ ان کے ساتھ حضرت ابو بکر کے پاس آئیں تو اہم جمیل نے آپ کو زخموں سے چور زمین پر پڑا دیکھا تو چیخ اٹھیں اور کہا کہ جن لوگوں نے آپ کے ساتھ یہ معاملہ کیا ہے وہ یقینا فاسق لوگ ہیں اور میں امید رکھتی ہوں کہ اللہ تعالیٰ ان سے بدلہ لے گا۔تب حضرت ابو بکر نے ان سے پوچھا کہ آنحضرت ملی یہ کام کا کیا حال ہے ؟ ام جمیل نے کہا یہ تمہاری والدہ بھی سن رہی ہیں۔آپ نے کہا: وہ تمہارا راز ظاہر نہیں کریں گی۔اس پر ام جمیل نے کہا کہ آنحضرت صلی الله علم خیریت سے ہیں۔حضرت ابو بکر نے پوچھا کہ آپ اس وقت کہاں ہیں ؟ ام جمیل نے کہا دارِ ارقم میں۔حضرت ابو بکر کے عشق رسول کے اس اعلیٰ مقام کو دیکھیں، جب یہ بات سنی تو پھر حضرت ابو بکر نے کہا خدا کی قسم! میں نہ کھانا چکھوں گا اور نہ پانی پیوں گا یہاں تک کہ پہلے میں رسول اللہ صلی علیکم کی خدمت میں حاضر ہوں۔حضرت ابو بکر کی والدہ نے بتایا کہ ہم نے انہیں یعنی ابو بکر کو کچھ دیر روکے