اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 5
اصحاب بدر جلد 2 5 حضرت ابو بکر صدیق الحسَن یعنی عمدہ صفات والا۔گویا کہ آپ کو مذمت اور عیوب سے بچایا گیا تھا۔یہ بھی کہا جاتا ہے کہ آپ کو عقیق اس لیے کہا جاتا ہے کہ آپ کی والدہ کا کوئی بچہ زندہ نہیں رہتا تھا۔انہوں نے نظر مانی کہ اگر ان کے ہاں بچہ ہوا تو وہ اس کا نام عبد الکعبہ رکھیں گی اور اس کو کعبہ کے لیے وقف کر دیں گی۔جب آپ زندہ رہے اور جوان ہو گئے تو آپ کا نام عتیق پڑ گیا گویا کہ آپ موت سے نجات دیے گئے۔15 ان کے علاوہ بھی لقب عتیق کی مختلف وجوہات ملتی ہیں۔بعض لوگوں کے مطابق آپ کو عقیق اس لیے کہا جاتا تھا کہ آپ کے نسب میں کوئی ایسی چیز نہیں تھی جس کی وجہ سے اس پر عیب لگایا جاتا۔16 عتیق کا ایک معنی قدیم یا پرانے کے بھی ہیں۔اس لیے حضرت ابو بکر ھو عتیق اس وجہ سے بھی کہا جاتا تھا کہ آپؐ قدیم سے نیکی اور بھلائی کرنے والے تھے۔17 اسی طرح اسلام قبول کرنے میں اور بھلائی میں پہل کرنے کی وجہ سے آپ کا لقب عتیق رکھا گیا تھا۔18 لقب صدیق کی وجہ تسمیہ اور جو دوسر القب ہے صدیق اس کی وجہ یہ بیان کی جاتی ہے کہ کیوں 'صدیق نام رکھا گیا۔علامہ جلال الدین سیوطی لکھتے ہیں کہ جہاں تک صدیق کا تعلق ہے تو کہا جاتا ہے کہ زمانہ جاہلیت میں یہ لقب آپ کو دیا گیا تھا اس سچائی کی وجہ سے جو آپ سے ظاہر ہوتی رہی۔یہ بھی کہا جاتا ہے کہ آنحضرت علی ملی یکم آپ کو جو خبریں بتایا کرتے تھے ان کے متعلق رسول اللہ صلی علیم کی تصدیق میں جلدی کرنے کی وجہ سے آپ کا نام صدیق پڑ گیا۔19 حضرت عائشہ نے بیان فرمایا کہ جب رات کے وقت نبی کریم صلی الل ولم کو بیت المقدس مسجد اقصی کی طرف لے جایا گیا یعنی واقعہ اسراء جو ہوا تھا تو صبح کو لوگ اس واقعہ کے متعلق باتیں کرنے لگے۔جب آپ نے بتایا اور لوگوں میں سے بعض جو آپ پر ایمان لائے تھے اور انہوں نے آپ کی تصدیق بھی کی تھی وہ پیچھے ہٹ گئے۔بعض کمزور ایمان ایسے بھی تھے۔اس وقت مشرکین میں سے کچھ لوگ حضرت ابو بکر کے پاس دوڑتے ہوئے آئے اور کہنے لگے کیا آپ کو اپنے ساتھی کے بارے میں کچھ معلوم ہے کہ وہ یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ انہیں رات کو بیت المقدس لے جایا گیا تھا۔حضرت ابو بکر نے کہا کیا واقعی آپ نے یہ فرمایا ہے ؟ لوگوں نے کہا ہاں انہوں نے کہا ہے۔اس پر حضرت ابو بکڑ نے کہا اگر آپ نے یہ فرمایا ہے تو یقینا سچ کہا ہے۔لوگوں نے کہا کیا تم ان کی تصدیق کرتے ہو کہ رات کو بیت المقدس گئے اور صبح ہونے سے پہلے واپس بھی آگئے ؟ کیونکہ یہ بیت المقدس مکہ سے تقریباً تیرہ سو کلومیٹر کے فاصلہ پر ہے۔تو حضرت ابو بکر نے کہا کہ ہاں میں اُس کی بھی تصدیق کروں گا جو اس سے بھی بعید ہے۔پھر حضرت ابو بکر نے فرمایا کہ میں صبح شام اترنے والی آسمانی خبر کے بارے میں بھی آپ کی تصدیق کرتا ہوں۔چنانچہ اس