اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 160
حاب بدر جلد 2 اس کے بدلہ میں قتل کریں گے۔419 160 حضرت ابو بکر صدیق مختلف قبائل کاز کوۃ دینا شروع کرنا حضرت ابو بکر کی قیادت و راہنمائی میں منکرین زکوۃ کے حملوں کا سد باب ہوتے ہی دیگر کمزور اور متذبذب قبائل یکے بعد دیگرے اپنی زکوۃ لے کر مدینہ کی طرف آنے لگے۔جب کمزور قبائل نے دیکھا کہ جو طاقتور قبائل ہیں ان کا یہ حال ہو گیا ہے تو جنہوں نے زکوۃ رو کی ہوئی تھی وہ زکوۃ لے کر مدینہ آنے لگے۔کوئی قبیلہ رات کے پہلے حصہ میں زکوۃ لے کر آنے لگا اور کوئی رات کے درمیانی حصہ میں اور کوئی رات کے آخری حصہ میں۔جب یہ لوگ مدینہ میں نمودار ہوتے تو ہر جمعیت کے نمودار ہونے کے موقع پر لوگ کہتے کہ یہ ڈرانے والے معلوم ہوتے ہیں یعنی کوئی بری خبر لانے والے ، مگر حضرت ابو بکر نے ہر وقع پر یہ کہا کہ یہ خوشخبری دینے والے ہیں۔حمایت کے لیے آئے ہیں نقصان کے لیے نہیں۔چنانچہ جب با قاعدہ طور پر یہ معلوم ہوا کہ یہ جماعتیں حمایت اسلام کے لیے آئی ہیں اور زکوۃ کے اموال لے کر آنے والی جماعتیں ہیں تو مسلمانوں نے حضرت ابو بکر سے کہا آپ بڑے مبارک آدمی ہیں آپ ہمیشہ سے بشارت دیتے چلے آئے ہیں۔420 اس موقع پر حضرت ابو بکڑ نے یہ بھی فرمایا کہ بُری خبر اور بُرے ارادے سے آنے والے تیز تیز چلتے ہیں جبکہ خوشخبری لانے والے قافلے آرام اور اطمینان سے چلتے ہیں۔میں ان کی رفتار سے اندازہ کر لیتا تھا۔421 منکرین زکوۃ کے خلاف کامیابی کے بعد زکوۃ کی وصولیوں کے متعلق تاریخ طبری میں لکھا ہے کہ اس زمانے میں اس قدر صدقات مدینہ میں موصول ہوئے جو مسلمانوں کی ضرورت سے بچ گئے۔422 انہی فتوحات اور بشارتوں کے دوران حضرت اسامہ کا لشکر بھی کامیابی و کامرانی کے ساتھ مدینہ واپس لوٹ آیا۔حضرت اسامہ کے واپس آنے کے بعد ابو بکر نے ان کو مدینہ میں اپنا نائب مقرر کیا۔یہ بھی کہا جاتا ہے کہ حضرت ابو بکر نے سنان ضمری کو اپنا نائب مقرر کیا اور ان سے اور ان کی فوج سے کہا کہ سر دست تم بھی آرام کر لو اور اپنی سواری کے جانوروں کو بھی دم لینے دو اور خود ابو بکر لوگوں کے ساتھ سوار ہو کر ذُوالقصّہ روانہ ہوئے مگر مسلمانوں نے حضرت ابو بکر سے عرض کی کہ اے خلیفہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ سے خدا کا واسطہ دے کر درخواست کرتے ہیں کہ آپنے خود اس مہم پر نہ جائیں کیونکہ خدانخواستہ اگر آپ کو کوئی ضرر پہنچ گیا تو سارا نظام درہم برہم ہو جائے گا۔آپ کسی اور کو اس کام کے لیے بھیج دیں تا کہ اگر اس کو کوئی معاملہ پیش آجائے تو آپ کسی دوسرے کو اس کی جگہ مقرر کر سکیں۔حضرت ابو بکر نے فرمایا اللہ کی قسم ہمیں ہر گز ایسا نہیں کروں گا اور میں آپ لوگوں کی غمخواری اپنی جان سے کروں گا۔3 423