اصحابِ بدرؓ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 161 of 557

اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 161

حاب بدر جلد 2 اہل ربذہ پر حملہ 161 حضرت ابو بکر صدیق پھر اہل ربذہ پر حملے کے بارے میں لکھا ہے کہ حضرت ابو بکر سب انتظام کر کے ذُوحِسی اور ذُو القصّہ چلے گئے۔ذُوالقصّہ مدینہ سے چالیس میل کے فاصلے پر ایک جگہ ہے۔نعمان ، عبد اللہ اور سوید اپنی اپنی جگہ تھے یہاں تک کہ حضرت ابو بکر نے آبزق کے مقام پر اہل ربذہ کو جالیا۔شدید جنگ ہوئی۔بالآخر اللہ نے حارث اور عوف کو شکست دی جو مرة، ثعلبہ اور عبس قبائل کے سردار تھے اور خطیقہ زندہ گرفتار کر لیا گیا۔حضرت ابو بکر نے چند روز ابرق میں قیام کیا اور آپ نے ابرق کی سرزمین کو مسلمانوں کے گھوڑوں کی چراگاہ بنا دیا۔اس جنگ میں شکست کھا کر بنو عبس اور بنو ذُ بیان طلیحہ سے جا ملے جو سمیراء سے چل کر اس وقت بُزاخه پر پہنچ کر ٹھہرا ہوا تھا۔بُزاخہ بھی بنو اسد کے چشمہ کا نام ہے یہاں طلیحہ اسدی کے ساتھ حضرت ابو بکرؓ کے عہد میں عظیم معرکہ ہو ا تھا۔424 پھر ایک مصنف شکست خوردہ قبائل کی روش کے متعلق لکھتا ہے کہ عبس ، ڈبیان، غطفان، بنی بکر اور مدینہ کے قریب بسنے والے دوسرے باغی قبائل کے لیے مناسب تھا کہ وہ اپنی ہٹ دھرمی اور بغاوت سے باز آجاتے۔حضرت ابو بکر کی کامل اطاعت اور ارکانِ اسلام کی بجا آوری کا اقرار کرتے اور مسلمانوں سے مل کر مرتدین کے خلاف نبرد آزما ہو جاتے۔عقل کا تقاضا بھی یہی تھا اور واقعات بھی اسی کی تائید کرتے تھے۔ابو بکر کے ذریعہ سے ان کا زور ٹوٹ چکا تھا۔روم کی سرحدوں پر حصولِ کامیابی کے باعث اہل مدینہ کار عب قائم ہو چکا تھا۔مسلمانوں کی قوت و طاقت بڑھ چکی تھی اور اب وہ اس کمزوری کے عالم میں نہ تھے جو جنگ بدر اور ابتدائی غزوات کے ایام میں ان پر طاری تھی۔اب مکہ بھی ان کے ساتھ تھا اور طائف بھی اور ان دونوں شہروں کی سیادت سارے عرب پر مُسَلَّم تھی۔پھر خود ان قبائل کے در میان ایسے مسلمان کثرت سے موجود تھے جنہیں باقی کسی صورت ساتھ نہ ملا سکے تھے اور اس طرح ان کی پوزیشن بے حد کمزور ہو گئی تھی۔لیکن اس کے باوجود مسلمانوں کی دشمنی نے ان کی آنکھیں اندھی کر دی تھیں اور سود و زیاں کا احساس دلوں سے جاتا رہا تھا۔انہوں نے اپنے وطنوں کو چھوڑ دیا اور قبیلہ بنی اسد کے نبوت کے جھوٹے دعویدار طلیحہ بن خویلد سے جاملے۔جو مسلمان اُن کے درمیان موجود تھے وہ انہیں ان کے ارادوں سے باز نہ رکھ سکے۔ان لوگوں کے پہنچ جانے سے طلیحہ اور مسیلمہ کی قوت و طاقت میں اضافہ ہو گیا اور یمن میں بغاوت کے شعلے زور و شور سے بھڑ کنے لگے۔425 بہر حال یہ ہمیشہ یاد رہنا چاہیے کہ ان لوگوں نے بغاوت کی تھی اور جنگ کی تھی۔صرف کسی دعوے پر یا کسی کے دعوے پر یہ جنگ نہیں ہوئی تھی۔بغاوت کا بدلہ لیا جارہا تھا اور جو جنگ تھی اس کا جواب جنگ سے دیا جارہا تھا۔