اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 54
اصحاب بدر جلد 2 54 حضرت ابو بکر صدیق حضرت مصلح موعودؓ ایک اور جگہ فرماتے ہیں ” جب مکہ کے لوگوں نے رسول کریم صلی کم پر انتہا درجہ کے مظالم شروع کر دیئے اور ان کی وجہ سے دین کی اشاعت میں روک پیدا ہونے لگی تو اللہ تعالیٰ نے آپ کو حکم دیا کہ مکہ چھوڑ کر چلے جائیں۔آپ کے ساتھ حضرت ابو بکر بھی مکہ چھوڑنے کے لئے تیار ہو گئے۔اس سے پہلے کئی دفعہ انہیں جانے کے لئے کہا گیا مگر آپ رسول کریم صلی علی تم کو چھوڑ کر جانے کے لئے تیار نہ ہوئے۔جب رسول کریم صلی اللہ کی جانے لگے تو حضرت ابو بکر کو بھی آپ نے ساتھ لے لیا۔جب آپ رات کے وقت روانہ ہوئے “ حضرت مصلح موعودؓ کہتے ہیں کہ یہ ایک جگہ جو میں نے بھی دیکھی ہے “ حج کے دوران ”پہاڑ میں معمولی سی غار ہے جس کا منہ دو تین گز چوڑا ہو گا اس میں جاکر ٹھہر گئے۔جب مکہ کے لوگوں کو پتہ لگا کہ آپ چلے گئے ہیں تو انہوں نے آپ کا تعاقب کیا۔عرب میں بڑے بڑے ماہر کھوجی ہوا کرتے تھے ان کی مدد سے تعاقب کرنے والے عین اس مقام پر پہنچ گئے جہاں رسول کریم صلی ال یکم اور حضرت ابو بکر بیٹھے تھے۔خدا کی قدرت کہ غار کے منہ پر کچھ جھاڑیاں اُگی ہوئی تھیں جن کی شاخیں آپس میں ملی ہوئی تھیں۔اگر وہ لوگ شاخوں کو ہٹا کر اندر دیکھتے تو رسول کریم صلی کم اور حضرت ابو بکر میٹھے ہوئے نظر آجاتے۔جب کھوجی وہاں پہنچے تو انہوں نے کہا کہ یا تو وہ آسمان پر چڑھ گئے ہیں یا یہاں بیٹھے ہیں اس سے آگے نہیں گئے۔خیال کرو اس وقت کیسا نازک موقع تھا۔اس وقت حضرت ابو بکر گھبر ائے مگر اپنی ذات کے لئے نہیں بلکہ رسول کریم صلی ای کمی کے لئے۔اس وقت رسول کریم ملی ای کم نے فرمایا: لَا تَحْزَنْ إِنَّ اللهَ مَعَنا گھبراتے کیوں ہو خدا تعالیٰ ہمارے ساتھ ہے۔اگر رسول کریم صلی الیکم خدا تعالیٰ کو اپنی ذات میں نہ دیکھتے تو کس طرح ممکن تھا کہ ایسے نازک وقت میں گھبرانہ جاتے۔قوی سے قوی دل گردہ کا انسان بھی دشمن سے عین سر پر آجانے سے گھبر ا جاتا ہے مگر رسول کریم صلی یم کے بالکل قریب بلکہ سر پر آپ کے دشمن کھڑے تھے اور دشمن بھی وہ جو تیرہ سال سے آپ کی جان لینے کے درپے تھے اور جنہیں کھوجی یہ کہہ رہے تھے کہ یا تو وہ آسمان پر چڑھ گئے ہیں یا یہاں بیٹھے ہیں۔اس جگہ سے آگے نہیں گئے۔اس وقت رسول کریم صلی اللہ یکم فرماتے ہیں: لَا تَحْزَنْ إِنَّ اللَّهَ مَعَنا خدا تعالیٰ ہمارے ساتھ ہے تمہیں گھبرانے کی کیا ضرورت ہے۔یہ خدا تعالیٰ کا عرفان ہی تھا جس کی وجہ سے آپ نے یہ کہا۔آپ خدا تعالیٰ کو اپنے اندر دیکھتے تھے اور سمجھتے تھے کہ میری ہلاکت سے خدا تعالیٰ کے عرفان کی ہلاکت ہو جائے گی اس لئے کوئی مجھے ہلاک نہیں کر سکتا۔153 الناس ہمارے نبی صلی ا ولم نے مدینہ کے سفر میں صرف ابو بکر کو ساتھ لیا ها التربة حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: ”حضرت عیسی علیہ السلام نے اپنی رفاقت کے لئے صرف ایک ہی شخص اختیار کیا تھا یعنی دھوما کو جیسا کہ ہمارے نبی صلی الم نے مدینہ کی طرف ہجرت کرنے کے وقت صرف حضرت ابو بکر کو اختیار کیا تھا کیونکہ سلطنت رومی حضرت عیسی کو باغی قرار دے چکی تھی اور اس جرم سے پیلا طوس بھی قیصر کے حکم سے قتل کیا گیا تھا کیو نکہ وہ در پردہ حضرت عیسی کا