اصحابِ بدرؓ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 53 of 557

اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 53

حضرت ابو بکر صدیق حاب بدر جلد 2 53 سے الہام پا کر یہ الفاظ فرمائے کہ لَا تَحْزَنْ إِنَّ اللهَ مَعَنَا (سورۃالتوبہ: 40) یعنی اے ابو بکر ! ہر گز کوئی فکر نہ کرو کیونکہ خدا ہمارے ساتھ ہے اور ہم دونوں اس کی حفاظت میں ہیں۔یعنی تم تو میری وجہ سے فکر مند ہو اور تمہیں اپنے جوش اخلاص میں اپنی جان کا کوئی غم نہیں مگر خدا تعالیٰ اس وقت نہ صرف میر امحافظ ہے بلکہ تمہارا بھی اور وہ ہم دونوں کو دشمن کے شر سے محفوظ رکھے گا۔“151 شخص یہ سیرت خاتم النبیین کا حوالہ ہے اور حضرت مصلح موعودؓ اس کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے ایک جگہ فرماتے ہیں کہ ”جب رسول کریم صلی علیکم کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہجرت کا حکم ملا تو آپ حضرت ابو بکر کو اپنے ساتھ لے کر جبل ثور کی طرف تشریف لے گئے جو مکہ سے کوئی چھ سات میل کے فاصلہ پر ہے اور اس پہاڑ کی چوٹی پر ایک غار میں چھپ کر بیٹھ گئے۔صبح جب کفار نے دیکھا کہ آپ اپنے گھر میں موجود نہیں اور ہر قسم کے پہرہ کے باوجود محمد رسول اللہ صل اللیل کی کا میابی کے ساتھ نکل گئے ہیں تو وہ فوراً آپ کی تلاش میں نکل کھڑے ہوئے اور انہوں نے مکہ کے چند بہترین کھوجی جو پاؤں کے نشانات پہچاننے میں بڑی بھاری دسترس رکھتے تھے اپنے ساتھ لئے جو انہیں جبل ثور تک لے آئے اور انہوں نے کہا کہ بس محمد رسول اللہ اگر ہیں تو یہیں ہیں۔اس سے آگے اور کہیں نشان نہیں ملتا۔اس وقت یہ کیفیت تھی کہ دشمن غار کے عین سر پر کھڑا تھا اور غار کا منہ تنگ نہیں تھا جس کے اندر جھانکنا مشکل ہو مگر وہ ایک فراخ منہ کی کھلی غار ہے جس کے اندر جھانک کر بڑی آسانی سے معلوم کیا جاسکتا تھا کہ کوئی اندر بیٹھا ہے یا نہیں مگر ایسی حالت میں بھی محمد رسول اللہ صلی للی کم پر کو ئی خوف طاری نہیں ہو تا بلکہ آپ کی قوت قدسیہ کی برکت سے حضرت ابو بکر کا دل بھی مضبوط رہتا ہے اور وہ موسی کے ساتھیوں کی طرح یہ نہیں کہتے کہ ہم پکڑے گئے بلکہ انہوں نے اگر کچھ کہا تو یہ کہ یارسول اللہ !اد ضمن اتنا قریب پہنچ چکا ہے کہ وہ اگر ذرا بھی نظر نیچی کرے تو ہمیں دیکھ سکتا ہے مگر رسول کریم ملی ایم نے فرمایا: اسكت يَا آبَا بَكْرِ اثْنَانِ الله قالههها ابو بکر ! خاموش رہو۔ہم اس وقت دو نہیں بلکہ ہمارے ساتھ ایک تیسر ا خدا بھی ہے پھر وہ کیونکر ہمیں دیکھ سکتے ہیں۔چنانچہ ایسا ہی ہوا۔باوجود اس کے کہ دشمن غار کے سر پر پہنچ چکا تھا پھر بھی اسے یہ توفیق نہ ملی کہ وہ آگے بڑھ کر جھانک سکتا اور وہ وہیں سے بڑ بڑاتے واہی تباہی باتیں کرتے ہوئے واپس چلا گیا۔غرض اس واقعہ کا ایک پہلو یہ ہے کہ موسیٰ کے ساتھیوں نے گھبرا کر یہ کہا کہ اے موسی ہم پکڑے گئے۔گویا انہوں نے اپنے ساتھ موسیٰ کو بھی لپیٹ لیا اور خیال کیا کہ اب ہم سب فرعون کی گرفت میں آنے والے ہیں مگر محمد رسول اللہ صلی علیکم کے توکل نے آپ کے سائے بھی ایسا اثر ڈالا کہ اس کی زبان سے بھی یہ الفاظ نہ نکلے کہ ہم پکڑے گئے۔بلکہ اس نے کہا تو صرف یہ کہ دشمن اتنا قریب آچکا ہے کہ اگر وہ ہمیں دیکھنا چاہے تو دیکھ سکتا ہے مگر محمد رسول اللہ صلی علیم نے اس واہمہ کو بھی برداشت نہ کیا اور فرمایا کہ ایسا خیال بھی مت کرو ہم اس وقت دو نہیں بلکہ ہمارے ساتھ ایک اور بھی ہستی ہے اور وہ ہمارا خدا ہے۔“152