اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 55
اصحاب بدر جلد 2 55 حضرت ابو بکر صدیق حامی تھا اور اس کی عورت بھی حضرت عیسیٰ کی مرید تھی۔پس ضرور تھا کہ حضرت عیسیٰ اس ملک سے پوشیدہ طور پر نکلتے۔کوئی قافلہ ساتھ نہ لیتے۔اس لئے انہوں نے اس سفر میں صرف دھو ماحواری کو ساتھ لیا جیسا کہ ہمارے نبی صلی علیم نے مدینہ کے سفر میں صرف ابو بکر کو ساتھ لیا تھا اور جیسا کہ ہمارے نبی صلی الیکم کے باقی اصحاب مختلف راہوں سے مدینہ میں آنحضرت صلی الیہ ظلم کی خدمت میں جا پہنچے تھے ایسا ہی حضرت عیسی علیہ السلام کے حواری مختلف راہوں سے مختلف وقتوں میں حضرت عیسی علیہ السلام کی خدمت میں جا پہنچے تھے۔154 ابو بکڑ نے اپنے صدق اور وفا کا وہ نمونہ دکھلایا جو ابد الآباد تک کے لئے نمونہ رہے گا پھر ایک جگہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ ”حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کا صدق اس مصیبت کے وقت ظاہر ہوا جب آنحضرت صلی للی کم کا محاصرہ کیا گیا۔گو بعض کفار کی رائے اخراج کی بھی تھی مگر اصل مقصد اور کثرت رائے آپ کے قتل پر تھی۔ایسی حالت میں حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے اپنے صدق اور وفا کا وہ نمونہ دکھلایا جو ابد الآباد تک کے لئے نمونہ رہے گا۔اس مصیبت کی گھڑی میں آنحضرت صلی علیہ کم کا یہ انتخاب ہی حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی صداقت اور اعلیٰ وفاداری کی ایک زبر دست دلیل ہے۔یہی حال آنحضرت صلی علیم کے انتخاب کا تھا۔اس وقت آپ کے پاس ستر اتنی صحابہ موجود تھے جن میں حضرت علی رضی اللہ عنہ بھی تھے مگر ان سب میں سے آپ نے اپنی رفاقت کے لئے حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کو ہی انتخاب کیا۔اس میں کیا ستر ہے ؟ بات یہ ہے کہ نبی خدا تعالیٰ کی آنکھ سے دیکھتا ہے اور اس کا فہم اللہ تعالیٰ ہی کی طرف سے آتا ہے اس لئے اللہ تعالیٰ نے ہی آنحضرت صلی ا علم کو کشف اور الہام سے بتا دیا کہ اس کام کے لئے سب سے بہتر اور موزوں حضرت ابو بکر ہی ہیں۔ابو بکر اس ساعت عسر میں آپ کے ساتھ ہوئے۔یہ وقت خطرناک آزمائش کا تھا۔حضرت مسیح پر جب اس قسم کا وقت آیا تو ان کے شاگر دان کو چھوڑ کر بھاگ گئے اور ایک نے لعنت بھی کی۔مگر صحابہ کرام میں سے ہر ایک نے پوری وفاداری کا نمونہ دکھایا۔غرض حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے آپ کا پورا ساتھ دیا اور ایک غار میں جس کو غارِ ثور کہتے ہیں۔آپ جاچھے۔شریر کفار جو آپ کی ایذارسانی کے لئے منصوبے کر چکے تھے تلاش کرتے ہوئے اس غار تک پہنچ گئے۔حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے عرض کی کہ اب تو یہ بالکل سر پر ہی آپہنچے ہیں اور اگر کسی نے ذرا پیچھے نگاہ کی تو وہ دیکھ لے گا اور ہم پکڑے جائیں گے۔اس وقت آپ نے فرما یالا تَحْزَنْ إِنَّ اللَّهَ مَعَنَا کچھ غم نہ کھاؤ اللہ تعالیٰ ہمارے ساتھ ہے۔اس لفظ پر غور کرو کہ آنحضرت صلی اللہ ہم حضرت ابو بکر صدیق کو اپنے ساتھ ملاتے ہیں چنانچہ فرمایا: إِنَّ اللهَ مَعَنَا - مَعَنَا میں آپ دونوں شریک ہیں۔یعنی اللہ تعالیٰ تیرے اور میرے ساتھ ہے۔اللہ تعالیٰ نے ایک پلہ پر آنحضرت کو اور دوسرے پر حضرت صدیق کو رکھا ہے۔اس وقت دونوں ابتلا میں ہیں کیونکہ یہی وہ مقام ہے جہاں سے یا تو اسلام کی بنیاد پڑنے والی ہے یا خاتمہ ہو جانے والا ہے۔