اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 366
حاب بدر جلد 2 366 حضرت ابو بکر صدیق اپنے گھر والوں کی خوراک مہیانہ کر سکتا۔میری آمدنی اتنی تھی کہ آرام سے میں گھر چلا رہا تھا مگر اب میں مسلمانوں کے کاموں میں مشغول ہو گیا ہوں۔سو ابو بکر کے اہل و عیال اب بیت المال سے کھائیں گے اور وہ یعنی ابو بکر مسلمانوں کے لیے اس مال میں کاروبار کرے گا اور تجارت سے ان کا مال بڑھا تا رہے 842-6 چنانچہ مسلمانوں نے آپ کے لیے سالانہ چھ ہزار درہم مقرر کیے۔بعض کہتے ہیں کہ آپ نے اتنا منظور کیا تھا جتنا آپ کی ضرورت کے لیے کافی ہو۔آپ پہلے والی تھے یعنی حکومت کے سر براہ تھے جس کی رعایا نے آپ کے مصارف منظور کیے۔843 844 ایک روایت میں اس طرح ذکر ملتا ہے کہ جب حضرت ابو بکر خلیفہ بنائے گئے تو ایک روز صبح کے وقت آپ بازار کی طرف جارہے تھے۔ان کے کندھے پر وہ کپڑے تھے جن کی وہ تجارت کیا کرتے تھے۔آپ کو حضرت عمر بن خطاب اور حضرت ابو عبیدہ بن جراح ملے۔انہوں نے کہا اے رسول اللہ کے خلیفہ ! کہاں کا ارادہ ہے؟ آپ نے فرمایا کہ بازار جا رہا ہوں۔انہوں نے کہا: یہ آپ کیا کرتے ہیں حالانکہ آپ مسلمانوں کے امور کے والی ہیں۔آپؐ نے فرمایا تو میں اپنے عیال کو کہاں سے کھلاؤں گا۔تو وہ آپ کو اپنے ساتھ یہ کہہ کرلے گئے کہ ہم آپ کا حصہ مقرر کرتے ہیں۔4 چنانچہ سالانہ تین ہزار درہم وظیفہ مقرر ہوا۔بعض روایات کے مطابق چھ ہزار درہم جیسا کہ پہلے ذکر ہو چکا ہے وظیفہ مقرر ہوا اور بعض کے مطابق کل عہد خلافت میں چھ ہزار درہم دیے گئے۔اسی طرح سیرت کی کتب میں تقریباً بالاتفاق یہ ملتا ہے کہ اگر چہ حضرت ابو بکڑ نے بیت المال سے اپنی اور اہل و عیال کی ضروریات پوری کرنے کے لیے وظیفہ لیا مگر وفات کے وقت تمام رقمیں واپس کر دیں۔چنانچہ ایک روایت ہے کہ جب آپ کی وفات کا وقت قریب آیا تو آپ نے وصیت فرمائی کہ آپ کی زمین فروخت کر کے اس کی قیمت سے وہ رقم ادا کی جائے جو آپ نے بیت المال سے اپنے ذاتی مصارف کے 845 لیے لی تھی۔ایک اور روایت میں اس طرح ذکر ملتا ہے کہ جب حضرت ابو بکر کی وفات کا وقت قریب آیا تو آپ نے حضرت عائشہ سے فرمایا کہ جب سے ہم خلیفہ ہوئے ہیں میں نے قوم کا کوئی دینار و درہم نہیں کھایا بلکہ معمولی کھانا اور موٹا لباس پہنتا رہا نیز مسلمانوں کے مالِ غنیمت میں صرف یہ چیزیں ہیں؛ غلام، اونٹ اور چادر۔لہذ ا میرے مرنے کے بعد ان تمام چیزوں کو عمر کو بھجوا دینا۔حضرت عائشہ فرماتی ہیں جب آپ کی وفات ہوئی تو میں نے وہ چیزیں حضرت عمرؓ کے پاس بھیج دیں۔حضرت عمر چیزیں دیکھ کے رونے لگے یہاں تک کہ ان کے آنسو زمین پر گرنے لگے اور حضرت عمر یہی فرمارہے تھے کہ اللہ ابو بکر پر رحم فرمائے انہوں نے اپنے بعد کے لوگوں کو مشقت میں ڈال دیا۔جب حضرت ابو بکر نے وفات پائی تو حضرت عمرؓ نے چند صحابہ کو بلا کر بیت المال کا جائزہ لیا تو حضرت 846