اصحابِ بدرؓ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 365 of 557

اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 365

حاب بدر جلد 2 365 حضرت ابو بکر صدیق سب کے ساتھ جنگ کروں گا۔یہ عزم کا نمونہ ہے۔پھر کیا ہو ا تم جانتے ہو۔یہ عزم تھا حضرت ابو بکر کا اور لوگوں کے مشورے اور تھے لیکن کیا ہوا۔جس عزم کا نمونہ آپؐ نے دکھا یا خدا تعالیٰ نے آپ کے عزم کی وجہ سے فتوحات کا دروازہ کھول دیا۔یاد رکھو! جب خدا سے انسان ڈرتا ہے تو پھر مخلوق کا رعب اس کے دل پر اثر نہیں کرتا۔839 یہ ہے منصب خلافت کی حقیقت۔بیت المال کا قیام رسول اکرم کے عہد مبارک میں غنیمت، خمس، ئے ، زکوۃ وغیرہ کے جو اموال آتے تھے آپ اسی وقت سب کے سامنے مسجد میں بیٹھ کر تقسیم کر دیتے تھے اور یوں کہا جاسکتا ہے کہ اس رنگ میں بیت المال کا شعبہ عہد نبوی میں موجود تھا۔البتہ حضرت ابو بکرؓ کے عہد میں فتوحات کی وجہ سے دوسری مدات کے علاوہ غنیمت اور جزیہ کی آمدنی بھی کافی زیادہ آنی شروع ہو گئی، اس میں اضافہ ہوا۔حضرت ابو بکر کو ایک بیت المال قائم کرنے کی ضرورت محسوس ہوئی تاکہ تقسیم اور خرچ ہو جانے تک مال وہاں رکھا جاسکے۔چنانچہ انہوں نے اکابر صحابہ کے مشورہ سے ایک مکان اس کے لیے مختص کر دیا لیکن یہ بیت المال برائے نام ہی رہا کیونکہ حضرت ابو بکر کی ہمیشہ یہی کوشش ہوتی تھی کہ نقد اور جنس آنے کے ساتھ ہی تقسیم کر دیا جائے۔بعض روایات کے مطابق محکمہ مال کی ذمہ داری حضرت ابو عبیدہ کے سپرد ہوئی۔840 آغاز میں حضرت ابو بکر نے وادی سنح میں بیت المال بنایا ہوا تھا اس کے لیے کوئی محافظ مقرر نہ تھا۔شیخ مدینہ کے مضافات میں مسجد نبوی سے تقریب دو میل کے فاصلے پر ایک جگہ تھی۔ایک مرتبہ کسی نے کہا آپ بیت المال کی حفاظت کے لیے کوئی محافظ کیوں مقرر نہیں فرماتے ؟ آپ نے جواب دیا اس کی حفاظت کے لیے ایک قفل کافی ہے یعنی تالا لگا ہوا ہی کافی ہے کیونکہ جو کچھ بھی بیت المال میں جمع ہوتا تھا آپ اسے تقسیم فرما دیتے تھے ، اکثر خالی ہی رہتا تھا یہاں تک کہ وہ بالکل خالی ہو جاتا۔پھر جب آپ منتقل ہو گئے تو بیت المال اپنے گھر میں ہی منتقل کر لیا۔آپ کا طریق یہ تھا کہ جو مال بیت المال میں مد بینہ ہو تا لوگوں کو تقسیم کر دیا کرتے حتی کہ وہ خالی ہو جاتا اور تقسیم کرنے میں ہر ایک کو برابر دیا کرتے تھے اور اسی مال سے آپ اونٹ، گھوڑے اور ہتھیار خرید کر اللہ کی راہ میں تقسیم کر دیتے۔ایک دفعہ آپ نے بدوؤں سے چادر میں خرید کر مدینہ کی بیواؤں میں تقسیم کیں۔تقسیم تو کئی دفعہ کی ہوں گی لیکن بہر حال یہ ذکر روایت میں ایک دفعہ کاریکارڈ ہوا ہے۔841 حضرت ابو بکر کے لیے بیت المال سے وظیفہ مقرر کیا جانا اس کے بارے میں لکھا ہے کہ جب حضرت ابو بکر خلیفہ منتخب ہوئے تو ان کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے بھی بیت المال سے ہی وظیفے کا انتظام کیا گیا۔حضرت عائشہ بیان کرتی ہیں کہ جب حضرت ابو بکر صدیق خلیفہ ہوئے تو انہوں نے فرمایا کہ میری قوم کو علم ہی ہے کہ میرا پیشہ ایسانہ تھا جس سے میں