اصحابِ بدرؓ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 367 of 557

اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 367

حاب بدر جلد 2 367 حضرت ابو بکر صدیق عمر نے اس میں کوئی چیز نہ در ہم نہ دینار پایا۔847 کچھ بھی نہیں تھا، خالی تھا، سب تقسیم کر دیا تھا۔محکمہ قضا کا نظام آپ نے جاری کیا۔حضرت ابو بکر کے دور میں اگر چہ محکمہ قضا کو باقاعدہ طور پر منظم نہیں کیا گیا تھا تاہم آپ نے قضا کا محکمہ حضرت عمرؓ کے سپر د کر رکھا تھا۔848 849 ایک روایت میں ذکر ہے کہ جب حضرت ابو بکر خلیفہ ہوئے تو حضرت عمرؓ نے فرمایا: میں آپ کی طرف سے عدالت کی خدمات انجام دوں گا۔حضرت عمر ایک سال تک منتظر رہے مگر اس عرصہ میں کوئی دو شخص بھی آپ کے پاس قضیہ لے کر نہیں آئے۔کوئی لڑائی جھگڑا ہی نہیں ہو تا تھا۔کوئی مسائل نہیں پیدا ہوتے تھے۔مقدمات کی تعداد بہت کم تھی۔اگر کوئی مقدمہ آ بھی جاتا تو حضرت ابو بکر خود اس کے لیے وقت نکال لیتے تھے ، خود ہی حل کر دیا کرتے تھے۔محکمہ قضا کے سر براہ حضرت عمرؓ تھے اور آپ کی مدد کے لیے درج ذیل اصحاب مقرر تھے : حضرت علی، حضرت معاذ بن جبل، حضرت ابی بن کعب ، حضرت زید بن ثابت، حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ 850 حضرت عمر بیان کرتے ہیں کہ اس وقت امن و امان اور دیانت داری کا یہ عالم تھا کہ مہینہ مہینہ گزر جاتا اور دو آدمی بھی فیصلہ کرانے کے لیے میرے پاس نہ آتے تھے۔محکمہ افتاء 851 کے بارے میں لکھا ہے کہ نئے نئے قبائل اور آبادیاں حلقہ اسلام میں داخل ہو رہی تھیں اور حالات کے پیش نظر بعض نئے نئے فقہی مسائل بھی پیدا ہو رہے تھے۔اس لیے حضرت ابو بکر نے عام مسلمانوں کی سہولت اور راہنمائی کے لیے محکمہ افتا قائم کیا اور حضرت عمرؓ، حضرت عثمان، حضرت علیؓ، حضرت عبد الرحمن بن عوف، حضرت ابی بن کعب، حضرت معاذ بن جبل اور حضرت زید بن ثابت کو فتویٰ دینے پر مامور کیا کیونکہ یہ حضرات تفقہ فی الدین اور علم و اجتہاد کے لحاظ سے دوسروں سے ممتاز تھے۔ایک روایت کے مطابق حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ بھی فتویٰ دینے والے ان اصحاب میں شامل تھے۔ان کے علاوہ کسی دوسرے کو فتویٰ دینے کی اجازت نہ تھی۔ایک مؤرخ نے لکھا ہے کتابت، لکھنے کا جو محکمہ تھا اس کے بارے میں لکھنے والا لکھتا ہے کہ عہدِ جدید کی اصطلاح میں کاتب کو حکومت کا سیکرٹری کہنا چاہیے۔یعنی سیکرٹری جو نوٹس لیتا ہے، میٹنگز کے منٹس (Minutes) سناتا ہے۔حضرت ابو بکرؓ کے عہد خلافت میں یہ نظام دیوان قائم نہ ہوا تھا لیکن سرکاری احکام کی تحریر ، معاہدوں کی ترقیم، ان کو لکھنا اور دوسرے تحریری کاموں کے لیے کچھ حضرات مخصوص تھے۔کتابت کی خدمت پر حضرت عبد اللہ بن ارقم عہدِ نبوی سے مامور تھے۔چنانچہ عہد 852