اصحابِ بدرؓ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 327 of 557

اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 327

اصحاب بدر جلد 2 327 حضرت ابو بکر صدیق چنگل سے بچا کر واپس شام کی سرحدوں پر لے آئے ہیں اور وہاں مدد کے منتظر ہیں تو حضرت ابو بکر صدیق نے ایک لمحہ ضائع کیے بغیر کمک بھیجنے کا انتظام شروع کر دیا۔حضرت ابو بکر صدیق نے اس سلسلہ میں چار بڑے لشکر تیار کیے جنہیں شام کے مختلف علاقوں کی جانب روانہ کیا۔ان کی تفصیل اس طرح ملتی ہے۔ایک لشکر جو پہلا تھا یزید بن ابوسفیان کا تھا۔یہ حضرت معاویہ کے بھائی تھے اور ابوسفیان کے خاندان میں بہترین آدمی تھے۔بطور کمک بھیجے جانے والے ان چار لشکروں میں سے یہ پہلا لشکر تھا جو شام کی طرف آگے بڑھا۔حضرت ابو بکر نے اس لشکر کا امیر حضرت یزید بن ابو سفیان کو بنایا۔ان کے ذمہ دمشق پہنچ کر اس کو فتح کرنا اور دیگر تین لشکروں کی بوقت ضرورت مدد کرنا تھا۔اس لشکر کی تعداد ابتدا میں تین ہزار تھی۔پھر حضرت ابو بکر نے مزید امداد بھیجی جس سے ان کی تعداد تقریباً سات ہزار ہو گئی۔حضرت یزید بن ابو سفیان کے اس لشکر میں مکہ کے لوگوں میں سے شکیل بن عمر و اور ان جیسے اور ذی مرتبہ لوگ بھی شریک تھے۔سہیل بن عمر وزمانہ جاہلیت میں قریش کے سر کردہ لوگوں اور زیرک سر داروں میں سے تھے اور صلح حدیبیہ کے موقع پر رسول کریم صلی المی ریم کے ساتھ معاہدہ کرتے ہوئے انہوں نے کفار مکہ کی نمائندگی کی تھی۔یہ فتح مکہ کے موقع پر مسلمان ہوئے تھے۔760 جب حضرت ابو بکر نے حضرت یزید بن ابو سفیان کے لیے جھنڈ ا باندھا تو ربیعہ بن عامر کو بلایا اور ان کے لیے بھی ایک جھنڈا باندھا اور انہیں فرمایا کہ تم یزید بن ابوسفیان کے ساتھ جاؤ گے۔ان کی نافرمانی اور مخالفت نہ کرنا۔پھر آپ نے حضرت یزید بن ابو سفیان سے فرمایا اگر تم اپنے مقدمتہ الجیش کی نگرانی ربیعہ بن عامر کے سپر د کرنا مناسب سمجھو تو ضرور ایسا کرنا۔ان کا شمار عرب کے بہترین شہسواروں اور تمہاری قوم کے صلحاء میں سے ہوتا ہے اور میں بھی امید رکھتا ہوں کہ یہ اللہ کے نیک بندوں میں سے ہیں۔اس پر حضرت یزید نے عرض کیا کہ ان کے بارے میں آپ کے حسن ظن اور ان کے متعلق آپ کی امید نے میرے دل میں ان کی محبت کو اور زیادہ بڑھا دیا ہے۔پھر حضرت ابو بکر ان کے ساتھ پیدل چلنے لگے تو حضرت یزید نے کہا کہ اے خلیفۃ الرسول صلی اللہ علیہ وسلم ! یا تو آپ بھی سوار ہو جائیں یا مجھے اجازت دیں کہ میں بھی آپ کے ساتھ پیدل چلنا شروع کر دوں کیونکہ میں ناپسند کرتاہوں کہ خود تو سوار ہوں اور آپ پیدل چلیں۔اس پر حضرت ابو بکڑ نے فرمایا: نہ تو میں سوار ہوں گا اور نہ ہی تم سواری سے نیچے اترو گے۔میں اپنے ان قدموں کو اللہ کی راہ میں اٹھتے ہوئے سمجھتا ہوں۔پھر آپ نے حضرت یزید کو وصیت کرتے ہوئے فرمایا: اے یزید ! میں تمہیں اللہ کا تقویٰ اختیار کرنے ، اس کی اطاعت کرنے ، اس کی خاطر ایثار کرنے اور اس سے ڈرتے رہنے کی وصیت کرتا ہوں۔جب دشمن سے تمہاری مڈھ بھیڑ ہو اور اللہ تمہیں فتح نصیب کرے تو تم خیانت نہ کرنا اور مثلہ نہ کرنا یعنی لوگوں کی، مقتولوں کی شکلیں نہ بگاڑنا اور تم بد عہدی نہ کرنا اور نہ ہی بزدلی دکھانا اور کسی چھوٹے بچے کو قتل نہ کرنا اور نہ کسی بوڑھے کو اور نہ ہی کسی عورت کو اور نہ کھجور کے درخت کو جلانا اور نہ ہی انہیں تباہ و