اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 281
حاب بدر جلد 2 281 حضرت ابو بکر صدیق 680 پھر دونوں مل کر کندہ قبیلے کا رخ کرو۔یہ خط پا کے عکرمہ مھرہ سے نکلے اور آنٹین میں قیام پذیر ہو کر مہاجر بن ابو امیہ کا انتظار کرنے لگے۔انین بھی یمن کی ایک بستی کا نام ہے۔کندہ قبیلہ کے مرتدین کے خلاف کارروائیوں کے متعلق تاریخ طبری میں لکھا ہے کہ ہے کہ ارتداد سے پہلے جب کندہ اور حضر موت کا سارا علاقہ اسلام لے آیا۔ان سے زکوۃ وصول کرنے کے متعلق رسول اللہ صلی الم نے یہ ارشاد فرمایا تھا کہ حضر موت میں سے بعض لوگوں کی زکوۃ کندہ میں جمع کی جائے اور بعض اہل کندہ کی زکوۃ حضر موت میں جمع کی جائے یعنی ان کو وہاں بھجوا دی جائے، ایک دوسرے پر خرچ ہو اور اہل حضر موت میں سے بعض کی زکوۃ سکون میں جمع کی جائے اور بعض اہل سکون کی زکوۃ حضر موت میں جمع کی جائے۔اس پر کندہ کے بعض لوگوں نے کہا یار سول اللہ ! ہمارے پاس اونٹ نہیں ہیں۔اگر آپ صلی اللہ یکم مناسب خیال فرمائیں تو یہ لوگ سواری پر ہمارے پاس اموالِ زکوۃ پہنچا دیا کریں۔رسول اللہ صلی الی یمن نے ان لوگوں سے کہا یعنی حضر موت والوں سے کہ اگر تم ایسا کر سکتے ہو تو اس پر عمل کرنا۔انہوں نے کہا ہم دیکھیں گے۔اگر ان کے پاس جانور نہ ہوئے تو ہم ایسا کریں گے۔پھر جب رسول اللہ صلی الی یوم کی وفات ہو گئی اور زکوۃ وصول کرنے کا وقت آیا تو زیاڈ نے لوگوں کو اپنے پاس بلایا۔وہ آپ کے پاس حاضر ہوئے اور بنو ولیعہ یعنی اہل کندہ نے کہا کہ تم نے جیسا کہ رسول صلی اللی کم سے وعدہ کیا تھا اموال زکوۃ ہمارے پاس پہنچا دو تو انہوں نے کہا تمہارے پاس بار بر داری کے جانور ہیں؟ اپنے جانور لاؤ اور اموال زکوۃ لے جاؤ۔انہوں نے خود اموالِ زکوۃ پہنچانے سے انکار کر دیا اور کندی اپنے مطالبہ پر مصر رہے۔پھر وہ لوگ اپنے گھروں کو واپس چلے گئے۔ان کا طرز عمل متذبذب ہو گیا۔ایک قدم آگے بڑھاتے اور دوسرا پیچھے ہٹاتے اور زیاد، مہاجر کے انتظار میں ان کے خلاف کوئی کارروائی کرنے سے رکے رہے یعنی جو زکوۃ دینے سے انکاری تھے ان سے کوئی کارروائی نہیں کی حتی کہ حضرت مہاجر آجائیں۔جب حضرت ابو بکر نے مہاجر اور حضرت عکرمہ کو یہ خط بھیجا کہ تم دونوں حضر موت روانہ ہو جاؤ اور زیاد کو ان کی ذمہ داری پر بر قرار رکھنا، مکہ سے لے کر یمن تک کے درمیانی علاقے کے جو لوگ تمہارے ساتھ ہیں ان کو واپس جانے کی اجازت دے دو سوائے ان لوگوں کے جو اپنی خوشی سے جہاد میں شریک ہونا چاہیں اور عبیدہ بن سعد کو زیاد کی مدد کے لیے روانہ کرو۔چنانچہ حضرت مہاجر نے اس ارشاد پر عمل کیا۔وہ صنعاء سے حضر موت کے ارادے سے روانہ ہوئے اور عکرمہ انین سے حضر موت کے ارادے سے روانہ ہوئے اور مارب مقام پر دونوں مل گئے۔ان دونوں نے صُهَيْد صحرا کو پار کیا یہاں تک کہ حضر موت پہنچ گئے۔جب کندی حضرت زیاڈ سے خفا ہو کر واپس چلے گئے تو حضرت زیاد نے بنو عمرو سے زکوۃ کی وصولی اپنے ذمہ لے لی۔کنڈہ کے ایک نوجوان نے حضرت زیاد کو غلطی سے اپنے بھائی کی اونٹنی زکوۃ کے لیے پیش کر دی۔حضرت زیاڈ نے اس کو آگ سے داغ کر زکوۃ کا نشان لگا دیا۔مہر لگادی کہ یہ بیت المال کی ہے اور زکوۃ کا مال ہے اور جب اس