اصحابِ بدرؓ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 282 of 557

اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 282

صحاب بدر جلد 2 282 حضرت ابو بکر صدیق لڑکے نے اونٹنی بدلنے کا کہا کہ غلطی سے ہو گیا تھا تو حضرت زیاد سمجھے کہ یہ بہانے بنارہا ہے۔اس لیے آپ راضی نہ ہوئے۔اس پر انہوں نے یعنی اونٹنی دینے والوں نے اپنے قبیلے کے لوگوں کو اور ابو سمیط کو مدد کے لیے پکارا۔ابو سمیٹ نے جب حضرت زیاڈ سے اونٹنی بدلنے کا مطالبہ کیا تو حضرت زیاڈ اپنے موقف پر مصر رہے۔ابو سمیط کو غصہ آیا۔اس نے زبر دستی اونٹنی کھول دی جس پر حضرت زیاڈ کے ساتھیوں نے ابو سمیط اور اس کے ساتھیوں کو قید کر لیا اور اونٹنی کو بھی قبضہ میں لے لیا۔ان لوگوں نے ایک دوسرے کو مدد کے لیے پکارا۔چنانچہ بنو مُعاویہ ابو سمیط کی مدد کے لیے آگئے۔بنو مُعاویہ وہ لوگ ہیں جو بنو حارث بن مُعاویہ اور بنو عمر و بن مُعَاوِیہ ، قبیلہ کندہ کی شاخیں ہیں۔انہوں نے حضرت زیاڈ سے اپنے ساتھیوں کی رہائی کا مطالبہ کیا لیکن حضرت زیاد نے ان کے منتشر ہونے تک قیدیوں کو رہا کرنے سے انکار کر دیا۔انہوں نے کہا اس طرح نہیں، تم لوگ چلے جاؤ پھر میں دیکھوں گا۔جب یہ لوگ منتشر نہ ہوئے تو حضرت زیاد نے ان پر حملہ کر کے ان کے بہت سے آدمیوں کو قتل کر دیا اور کچھ لوگ وہاں سے فرار ہو گئے۔حضرت زیاڈ نے واپس آکر ان کے قیدی بھی رہا کر دیے مگر ان لوگوں نے واپس جا کر جنگ کی تیاری شروع کر دی۔چنانچہ بنو عمر و، بنو حارِث اور اشعث بن قیس اور سمط بن اسود اپنے اپنے مورچوں میں چلے گئے اور انہوں نے زکوۃ دینے سے انکار کر دیا اور ارتداد اختیار کر لیا جس پر حضرت زیاد نے فوج جمع کر کے بنو عمر و پر حملہ کر دیا اور ان کے بہت سے آدمی قتل ہوۓ اور جو بھاگ سکتے تھے وہ بھاگ گئے اور ایک بڑی تعداد کو حضرت زیاد نے قید کر کے مدینہ روانہ کر دیا۔راستے میں اَشعَثُ اور بنو حارث کے لوگوں نے حملہ کر کے مسلمانوں سے اپنے قیدی چھڑوا لیے۔اس واقعہ کے بعد اطراف کے کئی قبائل بھی ان لوگوں کے ساتھ مل گئے اور انہوں نے بھی ارتداد کا اعلان کر دیا۔اس پر حضرت زیاڈ نے مدد کے لیے حضرت مہاجر کی طرف خط لکھا۔حضرت مہاجر نے حضرت عکرمہ کو اپنا نائب بنایا اور خود اپنے ساتھیوں کو لے کر کندہ پر حملہ آور ہوئے۔کندہ کے لوگ بھاگ کر نجیر نامی اپنے ایک قلعہ میں محصور ہو گئے۔یہ بھی یمن کا ایک قلعہ تھا حضر موت کے قریب۔اس قلعہ کے تین راستے تھے۔ایک راستے پر حضرت زیاد اتر گئے۔دوسرے پر حضرت مہاجر نے ڈیرہ ڈال لیا اور تیسر اراستہ کندہ ہی کے تصرف میں رہا یہاں تک کہ حضرت عکرمہ پہنچے اور اس راستے پر قابض ہو گئے۔حضرت زیاد اور حضرت مہا جرھما لشکر پانچ ہزار مہاجرین اور انصار صحابہ اور دیگر قبائل پر مشہ مشتمل تھا۔اشعث کی گرفتاری اور حضرت ابو بکر کا اس کو معاف کرنا جب قلعہ مجید کے محصورین نے دیکھا کہ مسلمانوں کو برابر امداد پہنچ رہی ہے تو ان پر دہشت طاری ہو گئی۔اس وجہ سے ان کا سردار اشعث فوراً حضرت عکرمہ کے پاس پہنچ کر امان کا طالب ہوا۔حضرت عکرمہ اشعث کو لے کر حضرت مُہاجر کے پاس آئے۔اشعث نے اپنے لیے اور اپنے ساتھ نو افراد کے لیے اس شرط پر امان طلب کی کہ وہ مسلمانوں کے لیے قلعہ کا دروازہ کھول دیں گے۔حضرت