اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 280
اصحاب بدر جلد 2 280 حضرت ابو بکر صدیق کے گروہ کو گھیر لیا تو انہوں نے امان کی درخواست کی مگر مہاجر نے ان کو امان دینے سے انکار کر دیا۔اس پر لوگ دو گروہوں میں تقسیم ہو گئے۔ان میں سے ایک گروہ سے حضرت مہاجر کا عجیب مقام پر مقابلہ ہوا۔عجیب جو ہے یہ یمن میں ایک جگہ ہے۔حضرت مہاجر کے دیگر گھڑ سواروں نے حضرت عبد اللہ کی قیادت میں اخاہث کے رستے میں ان لوگوں کا مقابلہ کیا اور بھاگنے والے دشمن ہر رستے پر قتل کیے گئے۔676 677 یمن کے علاقے اغلاب میں بنو عک نے جب بغاوت کی تو انہیں آخابت کا نام دیا گیا اور جس راستے پر ان بد باطن اور خبیث فطرت لوگوں سے جنگ ہوئی اسے بعد میں طریق الاحایث کا نام دیا گیا۔حضرت مہاجر کے صنعاء پہنچنے کے بارے میں لکھا ہے کہ حضرت مُہاجر عجیب سے روانہ ہوئے یہاں تک کہ صنعاء پہنچ گئے تو آپ نے فرار ہونے والے متفرق قبائل کا تعاقب کرنے کا حکم دیا۔مسلمانوں نے ان میں سے جس پر قابو پایا اسے اچھی طرح قتل کیا اور کسی سرکش کو معاف نہیں کیا گیا۔البتہ سرکشوں کے علاوہ جنہوں نے توبہ کی ان لوگوں کی توبہ قبول کی گئی۔جو جنگ کرنے والے تھے ، کرنے والے تھے ان کو تو معاف نہیں کیا لیکن باقیوں کو معاف کر دیا اور ان کے گذشتہ حالات کے مطابق ان سے سلوک کیا گیا اور ان کی طرف سے اصلاح کی امید تھی۔کندہ اور حضر موت کے باغیوں کے خلاف کاروائیاں 678 حضرت مہاجر اور حضرت عکرمہ کی رکندہ اور حضر موت کے علاقوں میں مرتدین کے خلاف جو کارروائیاں تھیں اس میں مزید بیان ہوا ہے کہ جب صنعاء میں حضرت مُہاجر کو استقرار حاصل ہو گیا، پاؤں تک گئے تو آپ نے حضرت ابو بکر کو خط کے ذریعہ سے اپنی تمام کارروائیوں سے مطلع کیا اور جواب کا انتظار کرنے لگے اور اسی وقت معاذ بن جبل اور یمن کے دیگر عمال نے جو رسول اللہ صلی علی کیم کے دور سے چلے آرہے تھے حضرت ابو بکر کو خطوط ارسال کیے اور مدینہ واپس آنے کی اجازت طلب کی تو حضرت ابو بکر نے معاذ بن جبل اور ان کے ساتھ دیگر عمال کو اختیار دیا کہ چاہیں تو یمن میں رہیں اور چاہیں تو مدینہ واپس آجائیں لیکن اپنی جگہ کسی کو مقرر کر کے آئیں۔اختیار ملنے کے بعد تمام ہی لوگ مدینہ واپس آگئے اور حضرت مہاجر کو حکم ملا کہ عکرمہ سے جاملو۔پھر دونوں مل کر حضر موت پہنچو اور زیاد بن لبید کا ساتھ دو اور ان کو ان کے عہدے پر باقی رکھتے ہوئے حکم فرمایا کہ تمہارے ساتھ مل کر جو لوگ مکہ اور یمن کے در میان جہاد کرتے رہے ہیں انہیں کوٹنے کی اجازت دے دو، واپس آنا چاہیں تو واپس آجائیں مگر یہ کہ بذات خود جہاد میں شرکت کو ترجیح دیں۔679 سوائے اس کے کہ خود لوگ کہیں کہ ہم جہاد میں شامل ہونا چاہتے ہیں۔عکرمہ کو حضرت ابو بکر کا خط موصول ہوا۔اس میں انہیں حکم دیا گیا تھا کہ مہاجر بن ابو امیہ سے جاملو جو صنعاء سے آرہے ہیں اور