اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 177
اصحاب بدر جلد 2 177 حضرت ابو بکر صدیق سوائے اس کے کہ وہ آپ کے پاس ان لوگوں کو لے کر آئیں جنہوں نے مرتد ہونے کی حالت میں مسلمانوں کو آگ میں ڈال کر جلایا اور ان کا مثلہ کیا اور ان پر مظالم بر پا کیے۔447 علامہ ابن خلدون لکھتے ہیں کہ جزیرہ عرب کے یہ مرتد قبائل مدینہ کا قصد کرتے ہوئے نکلے تاکہ 448 حضرت ابو بکر اور مسلمانوں کے ساتھ جنگ کریں۔تاریخ طبری میں لکھا ہے کہ سب سے پہلے عبس اور ڈبیان نے حملہ کیا۔چنانچہ حضرت ابو بکر کو حضرت اسامہ کی واپسی سے قبل ان سے لڑائی کرنی پڑی۔449 451 452 450 علامہ ابن خلدون لکھتے ہیں کہ ربیعہ قبیلہ نے ارتداد اختیار کر لیا اور انہوں نے مُنذر بن نعمان کو کھڑا کیا جس کا نام مغرور پڑا ہوا تھا۔انہوں نے اسے بادشاہ بنا دیا۔علامہ عینی جو صحیح بخاری کے شارح ہیں وہ لکھتے ہیں کہ حضرت ابو بکرؓ نے زکوۃ دینے سے انکار کرنے والوں سے صرف اس لیے قتال کیا کیونکہ انہوں نے تلوار کے ذریعہ سے زکوۃ رو کی اور امت مسلمہ کے خلاف جنگ بریا کی۔علامہ شوکانی بیان کرتے ہیں کہ امام خطابی نے نبی کریم صلی ایم کی وفات کے بعد ارتداد اختیار کرنے والوں اور زکوۃ وغیرہ کی ادائیگی سے انکار کرنے والوں کے بارے میں مختلف امور تحریر کرنے کے بعد لکھا ہے کہ یہ لوگ در حقیقت باغی ہی تھے اور ان کو مرتد صرف اس وجہ سے کہا گیا ہے کہ یہ لوگ مرتدین کی جماعتوں میں داخل ہو گئے تھے۔ایک مصنف نے بار بار اپنی کتاب میں ارتداد اختیار کرنے والوں کے لیے بغاوت اور باغی وغیرہ کے الفاظ لکھے ہیں۔چنانچہ وہ کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی امی کم کی وفات کی خبر سارے عرب میں پھیل گئی اور ہر طرف بغاوت کے شعلے بھڑکنے لگے تو ان شعلوں کی زد میں سب سے زیادہ یمن کا علاقہ تھا۔اگر چہ آگ کا بھڑ کانے والا شخص عنسی قتل ہو چکا تھا۔بنو حنیفہ میں مسیلمہ اور بنو اسد میں طلیحہ نے نبوت کا دعویٰ کر کے ہزاروں لوگوں کو اپنے ساتھ ملالیا اور لوگوں نے کہنا شروع کر دیا کہ اسد اور غطفان کے حلیف قبیلوں کا نبی ہمیں قریش کے نبی سے زیادہ محبوب ہے کیونکہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) وفات پا چکے ہیں اور طلیحہ زندہ ہے جب ان بغاوتوں کی خبر حضرت ابو بکر کو پہنچی تو انہوں نے فرمایا کہ ہمیں اس وقت تک انتظار کرنا چاہیے جب تک ان علاقوں کے عمال اور امراء کی طرف سے تمام واقعات کی مکمل رپورٹیں موصول نہ ہو جائیں۔زیادہ دن نہ گزرے تھے کہ امراء کی طرف سے رپورٹیں پہنچنے لگیں۔ان رپورٹوں سے صاف ظاہر ہو تا تھا کہ باغیوں کے ہاتھوں نہ صرف سلطنت کا امن خطرے میں تھا بلکہ ان لوگوں کی جانوں کو بھی سخت خطرہ تھا جنہوں نے ارتداد کی رو میں باغیوں کا ساتھ نہیں دیا تھا اور اسلام پر قائم رہے تھے۔اس صورت حال میں حضرت ابو بکر صدیق کے لیے پوری قوت سے بغاوتوں کا مقابلہ کرنا اور باغیوں کو ہر قیمت پر زیر کر کے صورت حال کو قابو میں لانے کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا۔453